از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اس وقت حالات کا جائزہ لیں تو مسلم معاشرے میں غیروں کی طرح نشے کی لت تیزی کے ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔نوجوان طبقہ مختلف قسم کی منشیات(ڈرگس) کا عادی ہوتاجارہاہے اور ان نوجوانوں پر لگام کسنے کیلئے نہ تو والدین کےپاس طاقت ہے نہ ہی مسلم عمائدین ،اہلِ علم حضرات اور ذمہ داروں کے پاس کوئی منصوبہ ہے،جس طرح اسلام نے شراب کو حرام قراردیاہے ،اُسی طرح سے وہ تمام اشیاء جو انسانوں کونشےاور تباہی کی جانب لے جاتے ہیں وہ بھی حرام ہی ہیں،لیکن مسلم معاشرے میں اس بُرائی کے خلاف کھلے عام آواز کیوں نہیں اُٹھ رہی ہے،اس کا اندازہ نہیں ہوپارہاہے،مختلف تنظیمیں آسان نکاح،اتحاد،عقیدت اور ثواب وگناہ کے عنوانات پر جلسے،تقرریں اور مہم چلا رہے ہیں مگر نشے سے پاک سماج کی بنیاد کیلئےکیوں جنگی سطح پر کام کیوں نہیں ہورہاہے؟۔جس طرح سے اسلام میں شراب کو حرام قرار دیتے ہوئے اُس کے قریب بھی نہ جانے کیلئے کہاگیاہے،اُسی طرح سے آج کے دورمیں افیم ،گانجہ،ہیرائن جیسے نشیلی اشیاء بھی انسانوں کو ہوش میں رہنے نہیں دے رہی ہیں،اس پر بھی پابندی عائد کرنے،نوجو ان نسلوں کوروکنے ،عوام میں بیداری لانے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔یہ کام یقیناً مشکل ضرور ہےلیکن ناممکن نہیں ہے۔ہر طبقے کو اپنے اپنے طو رپر اس کی شروعات کرنے کی ضرورت ہے،اگر نوجوان طبقے کو نشے سے پاک نہ کیاجائیگا تو کیسے ممکن ہے کہ ان کے نکاح آسان ہونگے،کیسے ممکن ہے کہ وہ توحید پر قائم رہے گیں،کیسے ممکن ہے کہ وہ اتحادکے علمبردار ہونگے۔جب نشے کی حالت میں جب خود کھڑا ہونے کی طاقت نہ رہے گی تو وہ کیسے مستقبل کوکھڑا کرینگے اور کیسے اپنی آنے والے نسلوں کیلئے نمونہ ثابت ہونگے؟۔اس معاملے پر ہر مرحلے میں غورفکرکرنے کی ضرورت ہے،محلہ وار سطح پر ایسے منصوبوں کو رائج کرنے کی ضرورت ہے،جس سے نوجوانوں کو اس وباء سے بچایاجاسکے۔جہاں پر ڈرگس کے عادی نوجوانوں کو دیکھاجاتاہے تو اُن پر پابندی مسلط کرنے کی پہل کی جائے،اُنہیں راہِ راست پر آنے تک کیلئے دبائو ڈالاجائے،اگریہ کام نہیں ہوتاہے توجتنی دوسری محنتیں ہیں وہ تمام محنتیں ضائع ہونگی۔اس وقت یہ دیکھاگیاہےکہ ڈرگس کی وباء صرف غریب یا مزدور طبقہ پیشے میں نہیں ہے بلکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں اور نوجوانوں میں بھی تیزی کے ساتھ یہ وباء پھیل رہی ہے۔شائد ان نوجوانوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ان کے نشے میں مست رہنے سے انہیں عارضی سکون ضرور ملتاہے،لیکن اس عارضی سکون سے کتنے گھر تباہ ہوتے ہیں،کس طرح سے قوم بربادی کی طرف جاتی ہے،کس طرح سے دوسری قومیں مسلمانوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ڈرگس،ایڈکٹ، ڈرگس پیڈلر،جیسے الفاظ سننے اور بولنے میں بھلے ہی خوشنما دکھائی دیتے ہیں،لیکن اس کے منفی اثرات کس طرح سے قوم کی عزت کو پامال کرتے ہیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔نوجوان طبقے کو ڈرگس سے پاک کرنے اور صحیح راستہ دکھانے کیلئے آج ملت اسلامیہ کو پوری طاقت کے ساتھ اُٹھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے۔اگر اب بھی لاپرواہی برتی جائے تو آنے والے دن ہر گھر میں،ہرگلی کے نکڑمیں اپنے بچوں کومدہوش دیکھے گیں اور ان کی حالت کُتوں سے بدترہوگی،کوئی اس قوم کو پوچھنے والانہیں ہوگا۔
