دہلی:۔ حیدرآباد انکاؤنٹر کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے بنائے گئے انکوائری کمیشن نے رپورٹ داخل کر دی ہے۔ دو سال بعد یہ رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ کمیشن سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وی ایس سرپورکر کی صدارت میں تشکیل دی گئی تھی ۔ حیدرآباد میں عصمت دری کے چار ملزمان کو پولیس نے 2019 میں ایک مبینہ انکائونٹر میں مار دیا تھا۔ گزشتہ سال اگست میں سپریم کورٹ نے کیس کی تحقیقات کرنے والے عدالتی کمیشن کی مدت میں آخری بار توسیع کی تھی۔ سپریم کورٹ نے تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید 6 ماہ کا وقت دیا تھا۔سی جے آئی این وی رمنا نے کہا تھا کہ مزید توسیع نہیں کی جائے گی، یہ وقت تیسری بار بڑھایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس وی ایس سرپورکر کی کمیشن تحقیقات کر رہی ہے۔ کمیشن نے کووڈ کی وجہ سے مزید وقت مانگا تھا۔ جنوری 2021 میں سپریم کورٹ نے حیدرآباد انکاؤنٹر کیس کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی مدت میں مزید چھ ماہ کی توسیع کردی۔ جسٹس وی ایس سرپورکر کی سربراہی میں کمیشن حیدرآباد میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر کے اجتماعی عصمت دری اور قتل کے چار ملزمین کے انکاؤنٹر قتل کی تحقیقات کر رہا ہے۔ تین رکنی کمیشن نے سپریم کورٹ سے تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مہلت دینے کی استدعا کی تھی۔12 دسمبر 2019 کو ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیشن مقرر کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ تحقیقاتی کمیشن چھ ماہ کے اندر اس معاملے پر اپنی حتمی رپورٹ پیش کرے۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے اس معاملے میں تلنگانہ ہائی کورٹ اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (این ایچ آر سی) میں زیر التواء کارروائی پر بھی روک لگا دی تھی۔نیزایس آئی ٹی سے پوری رپورٹ طلب کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا تھا کہ جب تک کمیشن اپنی رپورٹ پیش نہیں کرتا اس معاملے میں کوئی اور اتھارٹی کوئی انکوائری نہیں کرے گی۔پولیس فورس (سی آر پی ایف) سیکورٹی فراہم کرے گی۔ تاہم کمیشن مقررہ وقت میں اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش نہیں کر سکا۔ اس کے بعد کمیشن نے گزشتہ سال 12 جولائی کو سپریم کورٹ سے حیدرآباد انکاؤنٹر کیس کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کے لیے مزید چھ ماہ کی مہلت دینے کی درخواست کی تھی جس کے بعد سپریم کورٹ نے کمیشن میں بمبئی ہائی کورٹ کو مزید 6 ماہ کا وقت دیا تھا۔ سابق جج ریکھا سوندر بلدوٹا اور سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر ڈی آر کارتی کین بھی شامل تھے۔
