
اُڈپی:۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائرکی گئی ہے جس میں کہاگیاہے کہ عدالت ریاستی حکومت کو یہ احکامات جاری کرے کہ طلباء کو حجاب پہننے کا موقع دیاجائے۔اُڈپی کے کالج کی ایک طالبہ نے اپنی پٹیشن میں اس بات کاحوالہ دیاہے کہ دستورہند کے آئین کی شق14اور25 کے مطابق کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنےو الوں کو ان کے مذہبی روایت،رسم ورواج کو اپنانے سے روکانہیں جاسکتا،باوجود اسکے28 دسمبر سے اڈپی کی گورنمنٹ پی یو گرلس کالج میں طالبات کو حجاب پہننے سے روکاجار ہا ہے ۔عرضی گذار طالبہ کی وکالت کرناٹکا ہائی کورٹ کے وکیل اور این ایس یو آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری شتبیش شیونا،ارنائو اے بگلواڑی اور ابھیشیک جناردھن کررہےہیں۔دوسری طرف ریاست کے مختلف نام نہاد مسلم تنظیمیں اب بھی مذمتی بیانات دیتے ہوئے محض اس معاملے کو گرمائے رکھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں،نہ کہ قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے معاملے کو سلجھانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔دوسری جانب کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے صدر اور رکن اسمبلی رگھوپتی بھٹ نے ایک نیا فرمان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاب کی اجازت کیلئے کلاس روم سے باہر رہ کر احتجاج کر رہی طالبات اور میڈیا کے نمائند وں کو یکم فروری سے کالج احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں رہے گی ۔ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ نےاحتجاج کر رہی طالبات کے والدین کے ساتھ ایک میٹنگ کی گئی جس میں کلاس روم سے باہر رکھی گئی چھ طالبات میں سے 4 نے شرکت کی تھی ۔ میٹنگ کے بعد ایم ایل اے رگھو پتی بھٹ نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا :” حجاب کے ساتھ کلاس روم میں حاضر ہونے کی اجازت دینا ممکن نہیں ہے ۔ سرکار اور کالج کمیٹی کے فیصلہ کے تحت صرف یونیفارم میں ہی آنے کی اجازت ہوگی ۔ ہم نے تمام نکات طالبات کے والدین کے سامنے واضح کر دئے ہیں۔ایم ایل اے نے کہا کہ یکم فروری بروزمنگل سے کالج کیمپس میں، بدنظمی اور الجھن پھیلانے کا موقع نہیں دیا جائیگا ۔ میڈیا یا دوسری تنظیموں کو کالج احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ آئندہ دو مہینوں میں امتحانات ہونے جا رہے ہیں ۔ اس معاملہ میں والدین کی طرف سے ہمیں شکایات مل رہی ہیں ۔ اگر اس فیصلہ کے خلاف کسی کو مزید اپیل کرنا ہو تو وہ ڈپٹی کمشنر کے پاس جا سکتے ہیں ۔ جو ڈسپلین کی پابندی کرے گا صرف اسی کو کالج کیمپس میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ایسے میں ایک معروف انگریزی اخبار نےاپنے ویب سائٹ پر ایک خبر شائع کی ہے کہ چھ طالبات نے بغیر حجاب کلاس میں حاضر ہونے کی بات کو مان لیا ہے۔ لیکن جب اس تعلق سے متعلقہ طالبات سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس بات غلط بتایا ہے۔ میٹنگ میں کرناٹک بیری ساہتیہ اکیڈمی رحیم اُچھیلا اور دیگر مسلم لیڈران نے بھی شرکت کی رپورٹ کےمطابق رحیم اچھیلا نے کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی کے فیصلے کے حق میں بات کی کہ کلاس کے اندر حجاب کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ رپورٹ میں آگے لکھا گیا ہے کہ رحیم اُچھیلا نے مبینہ طور پر طالبات کو یہ بتاتے ہوئے قائل کیا کہ مسلم لڑکیوں کی طرف سے حجاب پہننے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنا درست تھا، لیکن ہندوستانی ہونے کے ناطے کالج کےکیمپس میں انہیں کالج کے قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا لازمی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ہدایات کے بعد طالبات نے منگل سے بغیر حجاب کلاسس میں حاضر ہونے کی بات پر آمادگی ظاہر کی ہے،جبکہ کالج کی متعلقہ طالبات کا کہناہے کہ ہم اپنی بات پر اب بھی قائم ہیں اور جس اخبار نے یہ رپورٹ لکھی ہے وہ جھوٹ پر مبنی ہے۔ طالبات نے بتایا کہ وہ کل منگل کو بھی حجاب پہن کر ہی کالج جائینگی اور بغیر حجاب کلاسس میں شریک نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ میٹنگ کی تمام باتیں درست ہیں، لیکن یہ بات کہ ہم نے بغیر حجاب کلاسس میں شریک ہونے پر آمادگی ظاہر کی، یہ جھوٹ ہے۔
