شیموگہ؛۔ریاست میں مسلم لڑکیاں حجاب پہن کر اسکول وکالج آرہی ہیں اور وہ اس بات پر اڑی ہوئی ہیں کہ وہ کسی بھی حال میں حجاب نہیں چھوڑینگی،چونکہ اسکول وکالج تعلیمی مراکز ہیں،اس لئے وہاں پر تفریق کا موقع نہ دیاجائے،اس لحاظ ریاست کے تمام اسکولوں وکالجوں میں حجاب پر پابندی لگائی جائے۔اس بات کامطالبہ ہندو جاگرن ویدیکے کارکنوں نے کیاہے۔پہلے ہی بھارت میں سرسوتی پوجا کو سیکولرزم کے نام پر روکاگیاہے،جس سے سماج میں بے چینی پائی گئی ہے،اب ووٹوں کی خاطر مسلم لڑکیوں کو حجاب پہننے کا موقع دیاگیاہے۔حجاب کومذہب کا حصہ کہاجارہاہے،لیکن دستور میں مساوات پر عمل کرنے کی جو بات کہی گئی ہے اُسے جان بوجھ کر نظراندازکیاجارہاہے۔اسکول وکالج میں مساوات کی بات آتی ہے تو یونیفارم لازم ہوجاتا ہے ،مگرکرناٹک میں یونیفارم پرحجاب پہن کر آنا معمول بن چکاہے۔دوسرے مذہب کی لڑکیاں حجاب پہن کر آرہی ہیں،اس کے رد میں ہندو طلباء شال پہن کرآرہے ہیں،مگر شال کو نشانہ بنایاجارہاہے۔اس لئے کرناٹک کےاسکولوں وکالجوں میں برقعہ وحجاب پرپابندی لگائی جائے۔
