بلیاک ریوؤلوشن(سیاہ انقلاب) کی ضرورت

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
سڑک بنانا،آدھار کارڈ بنانا،محلےکے بجلی بلپ کو ٹھیک کرنا،راشن کارڈ تقسیم کرنا،خون کا عطیہ درکا ہوتو واٹس ایپ میں اپیل کرنا،کسی کی موت کی اطلاع پاکراُس خبر کو سوشیل میڈیامیں دھڑا دھر شیئر کرنا،اپنے سیاسی آقائوں کی برسی،جنم دن،اُس کے بیٹے کی شادی،اُس کی اماں کی طبیعت کیلئے دعاکرنا،عیدمیلاد،رمضان،بقرعیدمیں سڑک کنارے فلکس لگوانا اور زیادہ سے زیادہ محلے کی مسجدمیں اپنے وجود کو ثابت کرناہی آج کے مسلم سیاسی لیڈروں کا مقصد ،منصب اور پہچان بن چکی ہے۔کہتے ہیں نا چھوٹی چھوٹی خوشیاں ہی انمول ہوتی ہیں،ایسے ہی ہمارے لیڈروں کی چھوٹی چھوٹی خدمات ہی پہچان بن چکی ہیں۔کئی سالوں سے مسلمانوں کےحق کیلئے آواز اٹھانے کے بجائے صرف یہی کہتے رہے کہ گوشت پر پابندی لگانی ہو تو دم ہونا چاہیے،مسجدپر انگلی دکھانی ہو تو دم ہوناچاہیے،برقعہ پر بات کرنی ہے تو ہمت ہونی چاہیے،پھاڑ دینگے،چیر دینگے،توڑ ڈالینگے،پھوڑ ڈالینگے،یہ سب باتیں مسلم قیادت کا شیوارہی ہیں۔اسی شیوے بازی میں کبھی بھی مسلمانوں نے اپنے مستقبل کو مضبوط بنانے کیلئے کبھی بھی لائحہ عمل تیارنہیں کیاہے،نہ ہی کبھی ان باتوں پر غوروفکر کرنے کی کوشش کی ہے۔ہمیشہ سے ہی چھوٹی وکھوکھلی شان کے علمبرداررہے ہیں،اس کا نتیجہ آج سب لوگ بھگت رہےہیں،کس طرح سے مسلمانوں کی عظمت کوتارتار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کس طرح سے ہماری بچیوں کو بے پردہ کرنے کی سمت میں پہل ہورہی ہے۔آج بھی کئی منافق نما مسلم قائدین یہ کہہ رہے ہیں کہ صرف حجاب ہٹانے کی بات ہورہی ہے،نہ کہ برقعہ ہٹانے کیلئے کوئی کہہ رہاہے۔اس میں سے بھی کچھ جاہل لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ لڑکیاں تو تعلیم حاصل کرنے جارہی ہیں تو انہیں وقت کی تقاضے کے مطابق جانا ہوگا۔یقیناً یہ وہ لوگ ہیں جن کو قرآن میں منافقین میں شمارکیاگیاہے۔جس طرح سے میڈیامیں بحث چل رہی ہے،اُسے دیکھ کر خون کھائول رہاہے اور مجبوراً یہ کہناپڑرہاہے کہ مسلم قیادت کو لقویٰ مارچکاہے،اب مسلم قائدین کو اپنی زبانیں بھی کھولنےکی ضرورت نہیں ہے،ہمارےعلماء اب بھی حکمتوں کی حدود ہیں،سیاستدان کمینے پن کی آڑمیں ہیں،جبکہ ملی وسیاست قیادت کے چمچے ،آنے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اپنی زمینیں زرخیز کرنے کی تیاری میں ہیں،جس کیلئے وہ دورے شروع کرچکے ہیں۔اس وقت ریاست میں ایک تحریک کو ہوا دینے کی ضرورت ہے اور یہ تحریک سیاہ تحریک کے نام سےشروع کرتے ہوئے ریاست کے کونے کونےسے چپے چپے سے مسلم خواتین کو باحجاب لیکر سڑکوں پر ایک دن شروع کرنے کی ضرورت ہے،یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ حجاب تین چار یاپانچ چھ لڑکیوں کامدعہ نہیں ہے،بلکہ اُمت مسلمہ کے ہر ماں وبہن،ہر بیٹی و بہو کا مسئلہ ہے۔اس آواز کوبالکل شاہین باغ کے طرز پر بلندکرنے کی ضرورت ہے۔اگر اب بھی مسلم قیادت کے نیم مردوں کے پیچھے جانے کی کوشش کی جائیگی تو سوائے لوٹھے اور کچھ ہاتھ نہیں آئیگا۔شرم آنی چاہیے مسلم قیادت کے اُن دلالوں کو جو اب بھی پردے میں بیٹھے ہوئے ہیں،کیوں نہ بیٹھیں یہی تو آرکیسٹرا،مجرے اور ڈانس بارکے دلداہ ہیں جو دوسروں کی عورتوں کو ٹھمکے لگاتے دیکھنے کے دلداہ ہوں،وہ پردے وحجاب کی عظمت کو کیا جانیں؟۔وقت آچکاہے کہ مسلمان دستورکےحدودمیں رہ کر اپنے مطالبات کو پوراکرنے کیلئے سڑکوں پر اُتریں،کوئی فرق نہیں پڑتاکہ اس میں کتنی مشکلات ہونگی،لیکن زندہ رہ کر جس طرح سے ہر دن بے موت مار ے جارہے ہیں وہ سب سے بڑی بات ہے۔پڑھنے والے سننےوالوں کو ہماری یہ باتیں جذباتی ضرور لگیں گی،لیکن اس وقت جذبات سے ہی کام لینا ضروری ہے،کیونکہ حکمت اور صبرکے پرچم کو تھام کر پوری قوم بزدل ہوتی جارہی ہے اور اسی صبر وحکمت کا سکہ دکھا کر کئی مسلم قائدین اب تک مسلمانوں کی لاشوں پراپنے مفادات کے پرچم لہراچکے ہیں۔اب ضرورت اس بات کی ہے کہ فوری طورپر ساری ریاست میں انقلاب برپاکیاجائے۔لائٹ،پانی،بجلی کیلئے لیڈروں کو چھوڑیں،بلکہ سماجی انصاف،حق اورتحفظ کیلئے آوازاٹھانے والےنسلوں کا ساتھ دیں۔شرم اُس وقت آتی ہے جب برقعے کے حق کیلئے آوازاٹھارہی کم بچیاں قوم کو للکاررہی ہیں اور قوم کے لیڈران وسربراہان ابھی بھی مذمتی بیانات دے رہے ہیں۔