بنگلورو:۔کرناٹک میں حجاب کے معاملے کو لیکر جہاں مختلف طرح چہ مگوئیاں جاری ہیں اور سیاستدان اپنے اپنے مفادات و ضرورت کے مطابق بیانات جاری کررہے ہیں،وہیں آج کرناٹکا حکومت کے محکمہ تعلیم عامہ کی جانب سے حکمنامہ جاری کیاگیاہے،جس میں یونیفارم کو طئے کرنے کا حق کالج انتظامیہ کو ہوگا اور اسے قبول کرنا طلباء کی ذمہ داری ہوگی۔اس سلسلے میں محکمہ کی جانب سے جاری کردہ حکمنامہ میں مختلف عدالتوں کے فیصلوں کو بھی دلائل کے طو رپر پیش کیاگیاہے اور کہاگیاہے کہ کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی سرکاری کالجوں میں یونیفارم کے ضوابط طئے کریگی،جبکہ پرائیوئٹ مینجمنٹ میں مینجمنٹ کا فیصلہ حتمی ہوگا۔یہ حکمنامہ ایسے وقت میں سامنے آیاہے جب اس معاملے کی سنوائی کرناٹکا ہائی کورٹ میں چل رہی ہے اور عدالت نے 8فروری کو اس معاملے کی تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کیلئے حکم دیاہے۔کرناٹکا حکومت کی جانب سے آج جاری کردہ حکمنامہ کی جلدبازی اس بات کی طرف بھی اشارہ کررہی ہے کہ کہیں کرناٹکا حکومت عدالت میں شرمسار ہونے کے ممکنہ موقع کو دیکھ کر احتیاطً یہ فیصلہ جاری کیا ہے ۔کل تک مسلسل اس سلسلے میں حکومت اس بات کاحوالہ دے رہی تھی کہ یہ معاملہ عدالت میں زیر سنوائی ہے اس لئے فی الحال کچھ نہیں کہاجائیگا۔ایک طرف محکمہ کی طرف سےعدالتی احکامت کے دلائل پیش کئے گئے ہیں تو وہیں کئی دلائل حجاب وپردے کو لیکر ہیں جسے اب عدالت میں ہی ثابت کرنا پڑرہا ہے ۔کرناٹک میں جاری حجاب کے مسئلے پر معروف اسلامی اسکالر اے پی استادنے بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ یہ قدم بھارت کے شہریوں کیلئے تشویشناک ہے ، بھارت کے شہریوں کے بنیاد حقوق کو پامال کیا جارہا ہے،کیرلاہائی کورٹ نے سال2015 میں یہ حق دیاہے کہ صرف حجاب ہی نہیں بلکہ سکھوں کی پگڑی ،عیسائیوں کا سلیب بھی بھارت کی تہذیب کا حصہ ہے اسے کوئی ہٹانے کیلئے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ابوبکر مصلیارنے متعلقہ قائدین اور سیاستدانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے شہریوں کے بنیادی حقوق کو نہ چھینیں ورنہ بھارت کے سیکولرزم کے اقدار کمزور ہوجائینگے۔دوسری طرف بی جے پی کے سیاسی لیڈروں کے من گھڑت اور مشتعل بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔رکن پارلیمان پرتاپ سمہانے کہاکہ اگر برقعہ وٹوپی پہن کر ہی کالج آناہے تو اس کیلئے کالج واسکول میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی،بہترہے کہ برقعہ پہننے کی خواہشمند لڑکیاں مدرسہ چلی جائیں،ساتھ ہی ساتھ انہوں نے ملک چھوڑکر جانے کی بھی صلاح دی ہے ۔ ریاستی وزیر سونیل کمارنےبھی کہاکہ اسکول وکالجوں میں حجاب کا معاملہ پس پردہ سازش کا حصہ ہےجس قوم کے پاس اسکول کی فیس بھرنے کیلئے اداکرنے کی طاقت نہیں ہے اب انہیں کورٹ جانے کیلئے کہاں سے پیسے آرہے ہیں ۔ بلڈنگ فنڈکیلئے ان کے پاس پیسے نہیں ہیں ، مگر پچاس سے ساٹھ ہزارافرادان کے ٹوئٹر پر جواب دینےو الے لوگوں میں شامل ہیں۔
