کنداپور: پرنسپل کی برطرفی کے لئے ویلفیئر پارٹی شعبئہ خواتین کا مطالبہ

بنگلور :اڈپی ضلع کے کنداپور سرکاری کالج میں حجاب پہن کر کالج آنے والی مسلم طالبات کو کالج کے گیٹ پر روکنے والے پرنسپل کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ ویلفیر پارٹی آف انڈیا ویمنس ونگ کی صدر طلعت یاسمین نے کیا ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے اخباری بیان دیتے ہوئے کہا کہ پہلے سے ہی مسلم لڑکیاں حجاب پہن کر اسکول کالج جا رہی ہیں یہ نئی بات نہیں ہے۔ بی جے پی تعصب کے بیج بورہی ہےاور سیاست کے لئے حجاب کے مدعے کو استعمال کررہی ہے ۔ ایک سرکاری کالج کے پرنسپل روزمرہ کی طرح اپنی خدمات انجام دینے کے بجائے بی جے پی کے اشاروں پر مسلم طالبات کے حجاب کا حوالہ دے کر کالج سے باہر رکھا گیا ہے ۔
حجاب پہننا مسلم خواتین کا بنیادی حق ہے، اب تک اس پر پابندی نہیں تھی اب کیوں ہے؟. عرصے سے مسلم خواتین حجاب پہن رہی ہیں یہ انکے عقیدے کا سوال ہے۔ اڈپی – کنداپور کی طالبات کو حجاب پہن کر کالج جانے والی طالبات کو کالج سے باہر بھیجنا غیر قانونی و غیر آئینی ہے۔ کووڈکی وجہ سے پہلے ہی طلباء کی تعداد میں کمی آئی ہے، بچوں کا تعلیمی معیار کم ہوتا جا رہا ہے ایسے میں طلباء کے معیار کو بہتر بنانے اور طلباء کو تعلیم کی طرف لانے کے لئے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیر تعلیم بی سی ناگیش ایسے کاموں کو انجام دینے کے بجائے حجاب کے مسئلے کو بڑھاوا دے کر آریس یس کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہے ہیں ،انہوں نے سوال کیا کہ وزیر تعلیم نے آخر اسکول و کالجوں کو اپنی سیاست کااکھاڑا بنالینے کا موقع ہی کیوں دیا ہے؟. ریاست میں حجاب کے معاملے کو لے کر بی جے پی کے اراکین اسمبلی و پا ر لیمان کے بیانات ہی ایک مذہب کی ترجمانی کررہے ہیں، ایک سماج کو نشانہ بناکر بات کرتے ہوئے مسلمانوں کو پاکستان جانے کی بات کہی جارہی ہے یامدرسوں کو جانے کہاجارہاہے یہ بات کہاں تک درست ہے؟. اراکین اسمبلی اور پارلیمان کے ایسے بیانات انہیں زیبا نہیں دیتےایسے اراکین پارلیمنٹ اور اسمبلی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے پہل کی جائے گی۔
