حجاب کے معاملے کو لیکر اُمت کا بڑا طبقہ پریشان،دوسری طرف ملّی قائدین مسائل سے انجان; سوشیل میڈیا پرمصروف نام نہاد سیاستدان،لائک،شیئر ،کمنٹس ہی ہوگیاہے ان کا کام

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔حجاب کا معاملہ کہاں جائیگا،کس رخ پر روکے گا،فیصلہ کیا ہوگا،بچوں کی تعلیم کا کیا ہوگا،بچیاں کیا کریں اور بچیوں کی رہنمائی کیسے کی جائے؟ان تمام باتوں کو لیکر اُمت کا بڑا طبقہ پریشان ہےاور ان مسائل کا حل نکالنے کیلئےسرجوڑ کر کئی جگہ پر لوگ بیٹھے ہوئے ہیں،لیکن مسلمانوں کے قائدین،مسلمانوں کے رہنمائوں ،مسلمانوں کے ووٹ مانگنے والے،ووٹ دلانے والے،ووٹوں کیلئے بات کروانے والے،گل پوشی شال پوشی کے پُرستار،ہولڈنگس ،فلکس کے سوپر اسٹار،اسٹیج کے آئی کان،شعلہ بیان،شیر،چیتا ،ہاتھی جیسے لیڈران،مائناریٹی لیڈر،عمائدینِ شہرجیسے لوگ دور دورتک دکھائی نہیں دے رہے ہیں،البتہ یہ لوگ پوری طرح سے سوشیل میڈیامیں مصروف ہیں اور ہر ویڈیوکو دیکھ رہے ہیں،شیئر کررہے ہیں ، لائک کررہے ہیں،اور کمنٹس بھی دل کھول کررہے ہیں،اگر دکھائی نہیں دے رہے ہیں تو حق کی لڑائی میں ساتھ دینے کیلئے بچوں کی رہنمائی کرنے کیلئے۔میڈیامیں مسلسل معصوم بچیوں کا استحصال کیاجارہاہے،سڑک کنارے برقعہ پوش بچیوں کی تصویریں لیکر انہیں ٹرول کیاجارہاہے،مگر قانونی کارروائی کرنے کیلئے کسی کے پاس نہ فرصت ہے اورنہ ہی دم دکھائی دے رہاہے۔سوشیل میڈیا پر ویڈیو شیئر کرنااخلاقی فرض ماناجارہاہے اور بعض لوگ ویڈیو کو اتنی بار شیئر کررہے ہیں مانوکہ ویڈیو شیئر کرنےسے ثواب جاریہ کے مستحق بن رہے ہیں۔کئی نام نہاداور خودساختہ لیڈران تو ان معاملات پر بات کرناہی مناسب نہیں سمجھ رہے ہیںا ور اس کا یہ جواز دے رہے ہیں کہ معاملہ ہائی کورٹ میں ہے اس لئے بات کرنا درست نہیں ہے،مانوکہ ان کے بیان پر ہی ہائی کورٹ کا فیصلہ آئیگا یاپھر ان کے بیان کو ہائی کورٹ میں پیش کیا جا ئیگا ۔ جتنی کوشش سے بچا جاسکے اُتنی کوششیں ہورہی ہیں،لیکن یہ تمام خودساختہ لیڈران،نام نہادعمائدین یہ بھول رہے ہیں کہ آج کی خاموشی کل انہیں تباہ وبرباد کردیگی۔آج پوری قوم کو کھانے پینے،اوڑھنے اور مغرب کی نت نئی مصنوعات،فخریہ خریدنے سےفرصت نہیں ہے اور نہ ہی انہیں سوشیل میڈیا سے فرصت مل رہی ہے۔نوجوان بچے ٹک ٹاکر بن گئے ہیں،عورتیں یوٹیوبر بن گئی ہیں،مرد شیئر اور لائک کے دلداہ بن گئے ہیں،کسی کو نصیحت گوارانہیں ہے ،کوئی سچائی کا آئینہ دیکھنا نہیں چاہتا،سیاستدان کو اُس کی ذمہ داری یاد دلائی جائے تو ناراض،علماء کو حقیقت بتائی جائے تو کہنے والا جہنمی،تنقید کی جائے تو گھمنڈی کہلایاجاتے ہیں ۔ غرض کہ اپنے اپنے طو رپر جینا چاہتاہے اور کسی کو قوم کی فکر نہیں ہے اور جنہیں فکرہے اُن کے تعلق سے اچھی رائے قائم کرنے کےبجائے اُن کی ٹانگیں کھینچنا،انہیں بدنام کرنااور تہمتیں لگانا شیوابن گیاہے۔اس وقت قوم کی حالت یہ بھی ہے کہ بچیوں کی رہبری نہیں ہے،جس کی وجہ سے بیٹھے بیٹھے،اُٹھے اُٹھے احتجاجات کا اعلان ہورہاہےاور ان بچیوں کو پولیس کے بھروسے چھوڑ دیاجارہاہے۔آخر ملت اسلامیہ کی کس راہ پر گامزن ہے اور کون رہزن ہے ،کون رہبرہے ،اس کا کوئی اندازہ نہیں ہورہاہے۔