از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دنوں ایک کنڑا روزنامہ کی جانب سے نبی کریم ﷺ کی شان میں ایک قلمکار کے مضمون کو شائع کرنے کے دوران نبی کریم ﷺ کا غلط خاکہ شائع کیا گیا تھا جیسے ہی اس اخبار کو مقامی ذمہ داروں نے مطلع کیا تو اس نے اپنی غلطی کو بھانپتے ہوئے اس خاکے کو ہٹا دیا اور اس تعلق سے معذرت نامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میرا منشاء ہر گز بھی حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا نہیں تھا اور یہ غلطی انجانے میں سرزد ہوئی ہے اور میں مسلمانوں سے معذرت چاہتاہوں ۔ اخبار کے ایڈیٹر کو محسوس ہوچکا تھا کہ یہ معاملہ تو ہین رسالت کا ہے اور اس سے وہ خطرے میں پڑسکتاہے اس لئے اس معاملے میں فوری رجوع کرتے ہوئے اپنی اصلاح کرلی ۔ یقیناََ ایک مسلمان اسکے نبی کی شان میں کی جانے والی گستاخی ہرگز بھی برداشت نہیں کرسکتا اور کوئی نبی کی شان میں جان بوجھ کر گستاخی کرتا ہے وہ معافی کے لائق بھی نہیں ہے ، ہاں اسلام میں یہ گنجائش ہے کہ اگر کوئی انجانے میں گستاخی کرتا ہے پھر بعد میں معذرت طلب کرتا ہے تو اسے معاف کیاجاسکتاہے ۔ توہین رسالت ﷺ کے تعلق سے آئے دن کہیں نہ کہیں معاملات پیش آرہے ہیں ، خصوصََا بھارت میں حالات بگڑرہے ہیں جس کے لئے قانون میں مخصوص گنجائش نہیں ہے اور اس کے لئے قانون بنانے کے لئے کبھی بھارت کے مسلمانوں نے حکومتوں سے مطالبہ بھی نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے شر پسند اکثر توہین رسالت کوانجام دیتے ہیں ۔مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ صرف معاملات پیش آنے پر ہی حکومتوں اور افسروں سے ان معاملات کو قابومیں لانے کے لئے مطالبہ نہ کریں بلکہ مستقل طور پر توہین رسالت کو انجام دینے والوں کو سزاء دینے کے لئے قانون بنانے کا مطالبہ کریں تبھی جاکر اس سلسلے میں کوئی مثبت پیش رفت ہوسکتی ہے ۔ ایک طرف غیر مسلم محمد مجتبیٰ ﷺ کی شان میں گستاخی کررہے ہیں تو دوسری جانب خود نبی کریم ﷺکی شان میں اس قدر گستاخی کررہے ہیں جسے بیان کرنا مشکل ہے ۔ پچھلے دنوں میلاد النبی ﷺ کے جلوس کے موقع پر جس طرح سے نبی وﷺ کے تعلیمات کی توہین کی گئی وہ بھی توہین رسالت کے زمرے میں آنے والی باتیں ہیں ۔ جلوس کے دوران کئی علاقوں سے یہ باتیں سننےاور دیکھنے کو ملی کہ ہماری نوجوان نسلوں نے اسلامی تعلیمات کو بڑے ہی بری طرح سے پامال کیا۔ کئی علاقوں کے نوجوانوںنے جلوس کے دوران ننگے گانوں پر ناچا، ناگن ڈانس کیا ، دوسری قوموں کو گالیاں دیں ، مسجدوں کے پاس جاکر شور و غل کیا، گندی گندی گالیاں دیں ، غرض کہ جو باتیں خلاف شریعت تھیں اور جن باتوں سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں ہے وہ تمام حرکتیں جلوس کے دوران دیکھی گئی ہیں ۔ افسوس ہوتاہے ان نوجوانوں کو دیکھ کر جو عشق کا رسول کا دعویٰ کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کررہے ہیں ، ہمارے نبی کی شان تو سارے کائنات کی شان سے افضل ہے اور اسکا کوئی ثانی نہیں ہے ۔ لیکن ہم کونسا اسلام پیش کررہے ہیں جو گانوں پر تھرک رہے ہیں ، زبان پر درود پاک ﷺ کی جگہ پر گالیاں آرہی ہیں ، اسلامی پیغام دینے کے بجائے جاہلوں کی طرح ناچ رہے ہیں ، گندے فلموں کے گانوں پر ٹھمکے لگارہے ہیں ۔ ہمارے نبیﷺ کی تعلیمات میں تو ایسا کہیں بھی نہیں لکھا ہے، ہمارے علماء نے تو جلوس کا باقاعد ہ بہترین نقشہ پیش کیا ہے، ہمارے اکابرین نے ہمیں راہ دکھائی ہے تو کیوںکر نوجوان نبی ﷺ کے نام پر غلط حرکتیں کررہے ہیں ۔ ایک طرف وہ لوگ توہین رسالت کررہے ہیں تو دوسری طرف خود مسلمان توہین تعلیمات ﷺ کی توہین کررہے ہیں ۔ وہاں کفر کا نافذ ہوتا ہے تو یہاں گناہ کبیرہ کے مرتکب ہورہے ہیں ، ہماری ذمہ داری تو نبی ﷺ کی شان بڑھانے ، انکے تعلیمات کو عام کرنے کے لئے آگے بڑھنا چاہے،نبی ﷺ کی صورت چھاپنے والوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمیں نبی ﷺ صورت شائع نہیں کرنا بلکہ سیر ت شائع کرنے اور سیرت کو جان کر اس پر عمل کرنا اور کروانا ہے ۔ اگر ایسا کام شروع ہوگا تو یقیناََ دوسرے توہین رسالت کرنے سے پہلے بہت سوچیں گے ، لیکن شروعات خود مسلمانوں کو کرنی ہوگی کہ وہ نبی ﷺ کی تعلیمات کی توہین نہ کریں ۔
