شیموگہ:۔حجاب کے معاملے کی تحقیقات کو نیشنل انسٹی گیشن ایجنسی(این آئی اے) کوسونپنے کامطالبہ وشواہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے کیاہے۔انہوں نے آج وزیر اعلیٰ کو ایک میمورنڈم دیتے ہوئے کہاکہ حجاب کا معاملہ 5 فروری کو اڈپی سے شروع ہواا وراب یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر زیر بحث ہے،اس کے پیچھے بڑی سازش ہے۔حجاب صرف ایک معاملہ ہے اس کے پیچھے جہادی سازش ہے،مسلم طلباء کے ذریعے اسکولوں وکالجوں میں جہاد کی ترغیب دی جارہی ہے اور ان کے افکار کو بدلنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔اس معاملے میں ایس ڈی پی آئی اور پی ایف آئی جیسی تنظیموں کاہاتھ ہے،سی ایف آئی جیسی بنیاد پرست تنظیموں نے اُڈپی منی پال میں خفیہ نشستوں کا اہتمام کرتے ہوئے طالبات کی ذہن سازی کی ہے اورحجاب کے معاملے کو لیکر تربیت دی ہے،اس وجہ سے یہ معاملہ مزید الجھ گیاہے۔اس معاملے میں پاکستان،افغانستان اور طالبان جیسے شدت پسند وں کی تائید مل رہی ہے جو تشویشناک بات ہے۔مسلم ممالک میں حجاب اور برقعہ لازمی نہیں ہے،باوجوداس کے بھارت میں حجاب کیلئے اجازت طلب کرتے ہوئے سماج کے امن وامان میں خلل ڈال رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر بھارت کی توہین کی جارہی ہے۔بجرنگیوں وسنگھیوں نے مزیدکہاکہ جمہوری ملک میں آئین اور عدالت کا فیصلہ آخر ہوتاہے،حجاب کے تعلق سے ہائی کورٹ نے جو عبوری فیصلہ سنایاہے اسے عزت نہیں دی جارہی ہے،اسکولوں کالجوں میں مذہب کو ہی ماننے کی بات کرنے والے طلباء جہادی سوچ کے حامل ہیں۔نومبرمیں حجاب کامعاملہ اٹھانے والی طالبات کے ٹوئٹر پوسٹ کا جائزہ لیاگیاتو یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبات ملک مخالف سرگرمیوں کی پوسٹ ڈالی ہوئی ہیں اور سی ایف آئی کی جانب سے ٹوئٹ کئے جانے والے پیغامات کو دوبارہ ٹوئٹ کیاگیاہے۔کرناٹکا ہائی کورٹ نے جو عبوری فیصلہ سنایاہے اُس پر اساتذہ بھی عمل نہیں کررہی ہیں،عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی ہورہی ہے،جس سے عوام میں خوف پھیل رہاہے،اس کے پیچھے ملک کوتوڑنے کی سازش ہورہی ہے۔اس موقع پروشواہندوپریشدکےضلعی صدر جی آرواسودیو،کنوینیر راجیش گوڈا،نارائن ورنیکرسدھاکر وغیرہ موجودتھے۔
