کرسمس پر گوشت کھلانے کی وجہ سےاسکول کو بندکرنے کے احکامات

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:۔کرناٹک میں ایک اسکول کو کرسمس پر گوشت پیش کرنے پر بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاہم بعد میں جب یہ واقعہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کے علم میں آیا تو اسکول بند کرنے کا حکم واپس لے لیا گیا۔انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق، کرناٹک کے باگل کوٹ ضلع کے بلاک ایجوکیشن آفیسر نے کرسمس کے موقع پر طلباء کو گوشت پیش کرنے پر ایلکل شہر کے سینٹ پال اسکول کو بند کرنے کا حکم دیا۔ اسکول حکام کو لکھے گئے خط میں بلاک ایجوکیشن آفیسر نے لکھا ہے کہ یہ بات ہمارے نوٹس میں آئی ہے کہ آپ نے کرسمس کے دوران بچوں کو گوشت پیش کیا ہے اور اس سے محکمہ اور عوام کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لیے اگلے احکامات تک سکول نہیں کھولا جا سکتا۔تاہم بعد میں جب یہ حکم محکمہ تعلیم کے علم میں آیا تو اسے منسوخ کر دیا گیا۔ بلاک ایجوکیشن آفیسر نے ضلع کمشنر یا محکمہ تعلیم کو بتائے بغیر اسکول کو بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ محکمہ نے یہ کہتے ہوئے حکم نامہ منسوخ کر دیا کہ ہم سکول کو صرف اس لیے بند نہیں کر سکتے کہ یہاں نان ویجیٹیرین کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ اس لیے اس حکم کو منسوخ کیا جا رہا ہے۔غور طلب ہے کہ اس سے قبل ہندو تنظیموں کے کچھ کارکنوں نے کرناٹک کے منڈیا ضلع کے نرملا انگلش ہائی اسکول میں منائے جانے والے کرسمس پروگرام کو روک دیا تھا اور ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔ اسی دوران ہندو تنظیموں کے کارکنوں نے گنیش چترتھی منانے اور اسکول میں سرسوتی کی تصویر لگانے کو کہا تھا۔ ہندو تنظیموں نے اسکول انتظامیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ اسکول مبینہ طور پر عیسائیت کا پرچار کر رہا ہے۔اس کے علاوہ جنوبی کرناٹک کے چکبالاپور ضلع کے ایک چرچ میں توڑ پھوڑ کا واقعہ سامنے آیا ہے۔ انتشار پسند عناصر نے چرچ میں سینٹ انتھونی کا مجسمہ توڑ دیا۔ بتادیں کہ کرناٹک اسمبلی میں بی جے پی حکومت کی طرف سے پیش کردہ تبدیلی مذہب مخالف بل کو منظوری دے دی گئی ہے۔ بل میں تبدیلی کی صورت میں 25 ہزار روپے جرمانے کے ساتھ تین سے پانچ سال قید کی سزا کا بندوبست کیا گیا ہے۔