شیموگہ:۔گھر گھر جاکرگھریلوملازمت دریافت کرنے والی بیشتر خواتین بھی اب آہستہ آہستہ جرائم کی دنیا میںقدم رکھنے لگی ہیں ۔ شہر کےمختلف مقامات پر مضافاتی علاقوں سے آنے والی خواتین ،بڑے گھروں میں جاکر پہلے تو گھر کا کام پوچھ رہی ہیںکام مل جاتا ہے تو ایک دو دن اپنا پن بتاکرگھرکا کام وکاج کرتی ہیں، تیسرے دن گھروالوں سے کسی طرح کا حیلہ بتاکر امداد طلب کرتی ہیں، اگر مدد نہیں کی جاتی ہے توچوتھے یا پانچویں دن یہ خواتین گھر کی قیمتی اشیاء نقدرقم لیکرفرارہورہی ہیں۔ اسطرح کی وارداتوں میں ذات پات میں کوئی فرق دکھائی نہیں دے رہا ، کیا ہندو کیا مسلمان سب اس طرح کے جرائم میں ملوث ہورہے ہیں ۔عام طور پر گھریلو ملازمہ کا مطالبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے لوگ بغیر کسی جانچ یا بحث کے کام پوچھنے والی خواتین کو کام پررکھنے کیلئے تیارہورہے ہیںاورکئی گھرانوںمیں یہ تک نہیں پوچھ رہے ہیں کہ کام کرنے والی خواتین کس مقام سے تعلق رکھتی ہیں۔ روزمرہ کے کام وکاج کیلئے جہاں بڑے تنخواہ دینے کیلئے مجبورہیںوہیں ان ملازمین کا پس منظر نہ جاننے کے سبب جرائم کا بھی شکار ہورہے ہیں۔ ایک طرف گھروں میں چھوٹی چوریوں کی وارداتیں انجام دی جارہی ہیںتو کچھ خواتین گھروں میں جاکر پہلے تو کام پوچھ رہے ہیں کام نہ ملنے پر اپنی بچیوں کی شادیوں کا حوالہ دے کر امداد طلب کررہے ہیں اورلوگ مجبور خواتین سمجھ کر انکی مدد کررہے ہیں۔ جھوٹے دعوے اور وعدے کرتے ہوئے یہ لوگ عام لوگوں کو ایک طرح سے لوٹ رہے ہیں ۔ اس وجہ سے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازمائوںکی تقرری سے پہلے مناسب تحقیقات کرلیں۔ جلدبازی میں تقرری نہ کریں اور ایسے لوگوں سے محتاط رہیں۔
