شیموگہ:۔ہر گلی ہر نکڑپر کلینک کے نام پر ایسی دُکانیں کھلی ہوئی ہیں جہاں پر لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلے طورپر کھلواڑکیاجارہاہے۔ایسے دائو خانوں کے خلاف شیموگہ میں پچھلے دنوں محکمہ صحت عامہ کے اہلکاروں نے کارروائی کرتے ہوئے25 سے زائد نقلی ڈاکٹروں کے اصلی کلینکوں پرچھاپہ مارا اور ان کے خلاف کے پی ایم ای ایکٹ کے تحت کارروائی کی ہے۔شیموگہ کے انانگر،تنگا نگر،ملگٹہ سمیت مختلف علاقوں میں25 سے زائد ایسی کلینک ہیں،جہاں پربی اے ایم ایس، بی یو ایم ایس اور بی ای ایم ایس جیسی تعلیم سے فارغ ہونےوالے ڈاکٹرس اپنے آپ کو سوپر ڈاکٹرس بناچکے ہیں۔ان ڈاکٹروں کو محدود بیماریوں کیلئے علاج کرنے کی حدہے،لیکن یہ ڈاکٹر اپنے آپ کو ایم بی بی ایس،ایم ڈی سے بڑھ کرپیش کرتے ہوئے ہر بیماری کاعلاج کررہے تھے۔ان میں سے10ک لینک ایسے پائے گئےہیں،جنہوں نے صحت عامہ سے منظوری نہیں دی ہے،جبکہ12 کلینک ایسے بتائےگئے ہیں،جنہوں نے اپنی شاپ کے اوپر کلینک کانام تو لکھاہے لیکن دروازے بندکئے ہوئے تھے ۔ محکمہ نے بتایاہے کہ چھاپہ ماری کے دوران ایک کلینک کو بندکرنے کیلئے بھی محکمہ نے نوٹس جاری کی ہے ۔اسقاط حمل کا گورکھ دھندہ : ۔ اسقاط حمل یعنی آبارشن جو قانونی طورپر ممنوع ہے ،نہایت سنگین حالات میں ہی آبارشن کرنے کیلئے قانون صرف اُن ڈاکٹروں کو اجازت دیتاہے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں اور متعلقہ محکموں سے منظور شدہ ہوں۔لیکن یہاں حرام ،حلال ہر طرح کے آبارشن کرتے ہوئے ڈاکٹرس موٹی رقم اینٹھ رہے ہیں اور اسی کو ڈاکٹری سمجھ بیٹھے ہیں۔حالانکہ بی اے ایم ایس یا بی یو ایم ایس جیسے ڈاکٹروں کو محدود بیماریوں کا علاج کرنے کی حد طئے کی گئی ہے،لیکن یہ لوگ یہاں نہ صرف ڈاکٹر بن جاتے ہیں،بلکہ گیناکلوجسٹ، سرجن تک بھی بن رہے ہیں ،جوکہ مریضوں کی زندگی کے ساتھ کھلے عام کھلواڑہے۔ ایک انجکشن دیا جھٹ کرکو بخارکم:۔ایم بی بی ایس یا ایم ڈی کئے ہوئے ڈاکٹرس مریضوں کو اُن کی عمر،ورزن،بیماری کی سنجیدگی اور سائڈایفکٹس کوبنیاد بناکرانجکشن اور داوئیاں دیتے ہیں،اسی وجہ سے ان کی دوائیاں آہستہ آہستہ اثر اندوز ہوتی ہیں،لیکن رجسٹرڈ میڈیکل پرایکٹشنر(آر ایم پی ) جن میں بی اے ایم ایس،بی یو ایم ایس ودیگر آیوش ڈاکٹر مریضوں کو ہائی ڈوز ادویات دیتے ہیں،جس کی وجہ سے اکثر مریضوں کو یہ کہتے ہوئے سُناہے کہ ہمارا ڈاکٹر ایسا انجکشن دیاکہ ایک جھٹکے میں بخارکم ہوگیا،ہمارا ڈاکٹر ایسی گولیاں دیاکہ ایک دن میں ہی بخار کم ہوگئی ۔دراصل یہ ڈاکٹر کا کمال نہیں بلکہ ہائی ڈوز انجکشن یا گولیوں کاکمال ہے ، جسے سوچے سمجھے بغیرجھولاچھاپ ڈاکٹر مریضوں کو دیتے ہیں اورمریض خوش ہوجاتے ہیں کہ سستے دام میں بڑاکام ہوگیا۔ انپڑھ،اقلیتوں کے محلوں میں جھولا چھاپ ڈاکٹر ہیرو : ۔ چونکہ غیر تعلیم یافتہ لوگوں کو ڈاکٹروں کی اصل تعلیم اور تجربے کا علم نہیں ہوتا اور استھیتس کوپ پہننےوالے کو ڈاکٹر سمجھ بیٹھتے ہیں،وہی ان جھولاچھاپ ڈاکٹروں کاشکاربنتے ہیں۔جھولا چھاپ ڈاکٹر اپنی کلینک یا دواخانہ انپڑھ لوگوں کے محلے،جھونپڑپٹی کے قریب اور مسلمانوں کے محلوں کے پاس بناتے ہیں اوریہ جھولاچھاپ ڈاکٹرجانتے ہیں کہ یہاں کے لوگ سستے دام سُن کردوڑ پڑینگےاوربغیر کسی
خوف کے 60-50 روپئے فیس لیکر یہاں کے مریضوں کو دھوکے میں رکھ کر پیسے لوٹنے لگتےہیں۔عام طورپر لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ ہائی ڈوز ادویات کی وجہ سے نہ صرف ان کےجسمانی اعضاء آہستہ آہستہ متاثرہوتےہیں بلکہ ان کی زندگیاں بھی دائو پر لگ جاتی ہیں ، ایسے ڈاکٹروں سے ہوشیاررہنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح سےہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی بھی ذمہ داری ہے کہ ایسے کلینکوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پرپابندی عائد کریں،جھولاچھاپ ڈاکٹروں کی تصویروں کے ساتھ تفصیلات جاری کرے تاکہ لوگ ان سے بچ کر رہیں۔
