بک بریکنگ نیوز:کرناٹک ہائی کورٹ میں کیا ہوا،کس نے کیا کہا؛حجاب معاملہ؛ ہائی کورٹ میں آج بھی سماعت نامکمل،طلباء کوراحت کاانتظار

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

ہمارے ملک کے اصولوں کو اسلامک آئین سے مشابہت نہیں کی جاسکتی:اڈوکیٹ کامت
بنگلورو:۔کرناٹکا ہائی کورٹ میں آج حجاب کے سلسلے میں سماعت ہوئی لیکن کسی بھی طرح کا حل نہیں نکل آیا،البتہ وکلاءنے عدالت میں زودار بحث ضرور کی۔آج عدالت میں اڈوکیٹ کامت اور اڈوکیٹ یوسف مچالا،اڈوکیٹ کالیشورم راج نے عدالت میں بحث کی۔جیسے ہی عدالت کی کارروائی شروع ہوئی تو عدالت نے کہاکہ اس معاملے کی سنوائی براہ راست بھی نشر ہورہی ہے،اس لئے اس معاملے کے تعلق سے میڈیاپوری ذمہ داری کے ساتھ کام کرے،کیونکہ میڈیا آئین کا چوتھا ستون ہے،ہم میڈیا سے یہی گذارش کرینگے کہ وہ ریاست میں امن وامان کوبحال رکھنے کیلئے اپنی ذمہ داری کو سمجھیں۔اس کے فوری بعد اڈوکیٹ کامت نے عدالت کو کہاکہ آرٹیکل25 اور19 کے تحت حجاب کو ممنوع قرارنہیں دیاجاسکتا،اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا آرٹیکل25 کے تحت جو حقوق دئیے گئے ہیں،اُن میں کسی طرح کے شرائط بھی شامل ہیں؟اڈوکیٹ کامت نے جواب دیاکہ آرٹیکل25 کے مطابق اسکارف کو پہننا شامل نہیں کیاگیاہےاور اس طرح کی دلیل دینا حکومت کی غلطی ہےاور اس طرح کے فیصلے لینا اپنی من مانی کو ثابت کرناہے۔آرٹیکل 25 میں حکومتوں کو جواپنے طو رپراحکامات چلانے کی گنجائش ہے،لیکن اس کے پس منظر کالج ڈیولپمنٹ کمیٹی( سی ڈی سی) کو یہ اختیارات نہیں ہیں۔مزید انہوں نے کہاکہ میں ایک ہندو بھی ہوں اور میں نے تمام دلیلیں پیش کی ہیں، بطور وکیل میں اپنی ذمہ داری نبھارہاہوں،اسی طرح سےمیڈیا بھی اپنی ذمہ داری نبھائے۔قرآن کے احکامات اور حدیث کی دلیلیں پوری طرح سے خدا کے احکامات مانے جاتے ہیں،اسے کیرلاہائی کورٹ نے بھی اپنے فیصلے میں تصدیق کی ہے،یہ کہتے ہوئے اڈوکیٹ کامت نے قرآن کی آیتیں عدالت کے سامنے سنائی۔مزید انہوں نے کہاکہ طالبات اپنے سروں کو ڈھانک کرآرہی ہیں جو نئی بات نہیں ہے،انہوں نے نئے یونیفارم کا مطالبہ نہیں کیاہے،بلکہ یونیفارم کے رنگ کا ہی کپڑالیکر سر ڈھانپنے کی بات کہی ہے۔اس دوران چیف جسٹس نے سوال کیاکہ طالبات کب سے سر ڈھانپ رہی ہیں؟۔اس پر اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ اس سوال کیلئے میں شکر گذار ہوں،طالبات پچھلے دو سالوں سےسر ڈھانپ کر کالج آرہی ہیں۔اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ کیندریاودیالیہ بھی یونیفارم کے رنگ کا ہی حجاب پہننے کی اجازت دی ہے،کیندریا ودیالیہ میں یونیفارم بھی ہے،اُسی یونیفارم کے رنگ پر طالبات حجاب پہن رہی ہیں۔مسلم طالبات کو حجاب کیلئے قومی سطح پر منظوری ہے،سکھ طلباء کیلئے سر کے پگڑی کی اجازت ہے،یہ تمام باتیں آرٹیکل 25 کے تحت شامل ہوتی ہیں۔جسٹس ڈکشت نے سوال کیاکہ حجاب ضروری ہے یہ کسی اسلامک ملک کے سپریم کورٹ میں تصدیق ہونے کی بات کیا آپ نے کہی ہے؟اگر کسی اسلامک ملک کا فیصلہ آپ کے پاس موجودہے؟۔اس پراڈوکیٹ کامت نے کہاکہ ہمارے ملک کے اصولوں سے زیادہ اسلامی ملک کے اصول زیادہ وسیع ہیں،ہمارے ملک کےاصولوں کو اسلامک آئین سے مشابہت نہیں کی جاسکتی،اس پر جسٹس ڈکشت نے پوچھا کہ ملیشیاء سیکولر ملک ہے یا اسلامک ملک؟،اس پر کامت نے کہاکہ یہ اسلامک ملک ہے۔آگے انہوں نے کہاکہ کئی ذرائعوں اور بین الاقوامی فیصلوں کی بنیادکے بعد مدارس ہائی کورٹ نے حکم دیاتھاکہ اسکارف لازم ہے۔چیف جسٹس نےپوچھاکہ آرٹیکل25(1)اور25(2) کو الگ سے پڑھاجاسکتاہے؟اس پر اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ جی ہاں،ضرور پڑھا جاسکتاہے۔جسٹس ڈکشت نے پوچھاکہ قرآن میں کہی گئی تمام باتیں کیاضروری ہیں؟،اس پر اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ میں ایسانہیں کہہ رہاہوں،تو جسٹس ڈکشت نے پوچھاکہ تو قرآن کے احکامات کی پامالی بھی تو ہورہی ہے،اس پر اڈوکیٹ کامت نے کہاکہ قرآن پاک میں پیش کئے گئے تمام معاملات پر میں تفصیل نہیں کہونگا،مگریہ معاملہ حجاب کا ہے،تو اس لئے حوالہ قرآن کا دیاجارہاہے۔قرآن میں جس بات کو غلط کہاگیاہے اُسےشریعت غلط کہتی ہے۔اس دوران اڈوکیٹ کامت نے عدالت کو بتایاکہ حکومت میرے موکل طالبات کوان کے بنیادی حقوق چھیننے کی کوشش کررہی ہے،اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ایساآپ سمجھ رہے ہیں۔اسی دوران اڈوکیٹ کالیشورم اور اڈوکیٹ یوسف مچالانے عدالت کو بتایاکہ وہ بھی اس معاملے میں بحث کرنا چاہیں گے،وقت ختم ہوتے ہی عدالت نے معاملے کی سنوائی کو روک دیا،پر اگلی سنوائی کل یعنی منگل کی دوپہر30.2 مقررکی گئی ہے۔