شیموگہ: چلّر قیادت اور سستی شہرت مسلمانوں کو مضبوط نہیں ہونے دے رہی ہے; میڈیامیں بیان بازی کو ہی عدالت کا بیان اور مائک پکڑنا سمجھا جارہاہے اپنی شان

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شہرمیں فرقہ وارانہ تشدد کے جو حالات پیدا ہوئے ہیں ان کے درمیان مسلمانوں کا ایک حلقہ چلر قیادت اور سستی شہرت کا دلداہ بن چکاہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کی قیادت مضبوط ہونے سے رہ رہی ہے۔بعض لوگ فرقہ پرستوں اور شرپسندوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے میڈیامیں بیانات دینے کوہی اپنی ذمہ داری سمجھ رہے ہیں او رمیڈیاکے بیانات کوعدالت کا بیان سمجھا جارہاہے،وہیں ایک حلقہ ایسابھی ہے جو مائک کو پکڑنے کو ہی اپنی شان سمجھ رہاہے۔دو دن قبل شہرمیں جو حالات تھے اُس میں اگر کچھ افراد سخت اقدامات نہ اٹھاتے تو شائد مسلمانوں کو بہت بڑے نقصان کا سامنا کرناپڑسکتاتھا،ایسے میں اب بھی کچھ لوگ ملی مفادکیلئے کام کرنے کے بجائے یاپھر کم ازکم خاموش رہنے کے بجائے پولیس کی مخبری،چغلی اور پولیس کی چاپلوسی کو اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو جانے انجانے میں نقصان پہنچارہے ہیں۔کئی علاقوں میں جو توڑپھوڑکی وارداتیں ہوئی ہیں اُن کے تعلق سے شکایتیں درج کروانے کیلئے کچھ افراد ایڑی چوٹی کازور لگا رہے ہیں تو وہیں کچھ لوگ متاثرین میں خوف پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں کہ اگر آپ شکایت کرتے ہیں توآپ کو پولیس کی حراسانی کا سامنا کرناپڑسکتاہے،کام دھندہ چھوڑکر عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑسکتے ہیں،اس لئے شکایتیں درج نہ کروائیں ۔کچھ لوگ یہ بھی سمجھ رہے ہیں کہ میڈیامیں انٹرویودینے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہےاور پولیس میں شکایت دینا ضروری نہیں ہے۔جو لوگ ٹی وی چینل پر چلّاچلّا کر اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان بیان کررہے ہیں وہ قانونی لڑائی لڑنے سے بھاگ رہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ سستی شہرت اور اپنی چلّر قیادت کو چھوڑکر لوگ قانونی لڑائی لڑنے کیلئے کمربستہ ہوجائیں۔