کرناٹک اردواکادمی کیوں ایک انجمن کی سطح پر اتر آئی؟: اطہر شیموگوی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔یہ سرخی پڑھنے والوں کو کچھ تعجب خیز لگتی ہے ۔جی ہاں ! یہ بالکل درست ہے کہ کر ناٹک اردو اکادمی کو اس کےرجسٹرار نے محض ایک ادبی انجمن بنا دیا ہے ۔یعنی جو ثقافتی خدمات ایک  انجمن کے ذریعہ انجام پائے جاتے ہیں وہ اب کرناٹک اردو اکادمی کے ذریعہ ہو رہے ہیں ۔گذشتہ اگست میں کرناٹک اردو اکادمی کی جانب سے اردو زبان میں مختلف ثقافتی  پروگرام منعقد کرنے اور چھ ماہ کی مدت پر اردو سیکھنے کے مراکز قائم کرنے اور انہیں مالی اعانت منظور کرنے کیلئے ریاست کے ین جی او اد اروں اور انجمنوں سے عرضیاں طلب کی گئیں۔ ان عرضیوں کانمونہ بھی اکادمی کے ذریعے تھا ۔پورے پانچ ماہ گزر گئے،اب تک وہ تمام عرضیاں سرد فائلوں میں منجمد ہو کر اردو کی خاطر دہائی دے رہی ہیں ۔ ایک خبرگرم تھی کہ کچھ انجمنوں اور اداروں کو مالی اعانت کا اکادمی کی جانب سے اعلان ہوا ہے ،مگر وہ بھی مزاحیہ اور تضحیکیہ انداز میں۔ جب اس بات کو’’ آج کا انقلاب ‘‘ کے مدیر مدثر احمد اور خاکسار نے گزرے ہوئے نومبر کے آخری ہفتے میں ’’سالار‘‘ کی سرخی بنائی تو اس پر کوئی وضاحت نہیں آئی ۔ مگررجسٹرار کو دیکھئے کہ ان عرضیوں کو نظر انداز کر کے ریاست کی تمام اردوانجمنوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک  معروف اکادمی کو انجمن کی سطح پر لاکرخود گاہے ماہے کوئی نہ کوئی پروگرام منعقد کر لیتے ہیں ۔کبھی طلبا کیلئے تقریری مقابلے،کبھی اردو صحافت پر کارگاہ کا اعلان اور کبھی کہیں پر مشاعرہ منعقد کرنے کا اعلان خود کر کےرجسٹرار جو کرناٹک اردو اکادمی کی بقا کی ضامن بنے ہوئے ہیں ،انہیں اپنی ریاست کے اردو  شعرا ، ادبا ، اردو صحافی ،ا ردو ادارے  اور انجمنوں کی بقا کے متعلق پر بھی کچھ غور و فکر کرلیتے تو خود ان کے اور کرناٹک اردو اکادمی کے حق میں بہت بہتر ہوتا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ اکادمی کے زیر اہتمام مذکورہ کاروائیوں کو انجام نہیں دینا چاہئے۔ضرور دیں مگر عوامی سطح پر اردو کی  خدمت کرنے والے اداروں کی حق تلفی کر کے نہیں۔جب کسی قسم کی مالی اعانت منظور کرنی نہیں تھی تو عرضیاں کیوں طلب کی گئیں؟۔