شیموگہ میں ہرشا قتل کے ملزمین کی گرفتاری کے بعد چار سال پہلے ہوناور میں ہوئے پریش میستا قتل کے معاملہ میں ابھری انصاف کی مانگ 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
کاروار:۔شیموگہ میں ہندوتوا کارکن ہرشا کے قتل کے چند گھنٹوں بعد ہی ملزمین کی گرفتاری ہونے پر چار سال قبل ہوئے ہوناور کے پریش میستا قتل معاملہ میں انصاف کے لئے پھر سے آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔خیال رہے کہ دسمبر 2017 میں ہوناور میں فرقہ وارانہ تصادم کے وقت مبینہ طور پر پریش میستا نامی نوجوان لاپتہ ہوگیا تھا اور بعد میں اس کی لاش قریب کے ایک تالاب سے دستیاب ہوئی تھی ۔ اس پس منظر میں بی جے پی نے فرقہ وارانہ رنگ دیتے ہوئے  ساحلی علاقہ اور ریاست کے دوسرے مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے ۔ ہوناور، کمٹہ اور دیگر مقامات پر تشدد اور ہنگامے بھی ہوئے تھے ۔ اُس وقت ریاست میں سدارامیا کی قیادت والی کانگریسی حکومت تھی ۔ اس نے یہ معاملہ تفتیش کے لئے سی بی آئی کے حوالہ کیا ۔ دوسری طرف اسی قتل کے پس منظر میں ساحلی علاقہ میں بی جے پی نے الیکشن میں نمایاں کامیابی حاصل کی اور ریاست میں بھی بی جے پی نے ہی باگ دوڑ سنبھالی ۔جب بی جے پی نے حکومت پر قبضہ جما لیا تو عوام اور بالخصوص بی جے پی حامیوں کو لگا کہ پریش میستا قتل کے سلسلے میں جلد ہی فیصلہ کن بات سامنے آجائے گی ۔ مگر چار سال کا عرصہ گزرنے اور سی بی آئی کی تحقیقات بھی پوری ہونے کی خبریں ملنے کے باوجود پریش میستا کی موت پر سے راز کے پردے نہیں ہٹ رہے ہیں ۔ اب ہرشا معاملہ میں پولیس کی مستعدی اور کارروائی دیکھنے کے بعد عوام سوال کر رہے ہیں کہ پریش میستا معاملہ میں بھی پولیس نے ایسی سرگرمی کیوں نہیں دکھائی تھی ۔ اور اتنے دن گزرنے کے باجود بی جے پی لیڈران یا حکومت کی طرف سے  سی بی آئی جانچ  کے نتائج پر کوئی بیان کیوں سامنے نہیں آرہا ہے ۔پریش میستا کے والد کملاکر میستا نے ایک کنڑا اخبار کو بتایا کہ تین مہینے قبل سی بی آئی کے افسران میرے گھر آئے تھے ۔ انہوں نے بتایا تھا کہ تحقیقات آخری مرحلہ میں ہے ۔ میں اس بات کا انتظار کر رہا ہوں کہ نتائج کب سامنے آئیں گے ۔