منگلورو : پوکسو کیس میں غلط شخص کی گرفتاری – عدالت  نے 2 خاتون پولیس افسران پر لگایا 5 لاکھ روپے جرمانہ 

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
منگلورو:۔ ایک سال قبل نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی ہراسانی معاملے میں پوکسو قانون کے تحت غلط شخص کو ملزم کے طور پر گرفتار کرنے کے جرم میں فاسٹ ٹریک اسپیشل کورٹ نے دو لیڈیز پولیس افسران پر 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا اور حکومت کے پرنسپال سیکریٹری کو ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت جاری کی ۔عدالت کی لتاڑ کا شکار ہونے والی انسپکٹر ریوتی اور سب انسپکٹر روسمّا شہر کے پانڈیشور ویمنس پولیس اسٹیشن میں تعینات ہیں ۔ گزشتہ سال نومبر میں ایک نابالغ لڑکی کی طرف سے 26 سالہ نوین نامی شخص کے خلاف عصمت دری کی شکایت درج کروائی گئی تھی ۔  ان پولیس افسران نے پوکسو قانون کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر پر کارروائی کرتے ہوئے نوین سیکویرا نامی شخص کو گرفتار کیا تھا اور وہ ایک سال سے جیل میں بند تھا ۔ عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران جب عدالت کے سامنے یہ بات آئی کہ عصمت دری کا شکار ہونے والی لڑکی اور اس کے بھائی کے شناسا 26 سالہ ملزم  نوین کے بجائے پولیس والوں نے چھوٹے موٹے جرائم کا سابقہ ریکارڈ رکھنے والے 46 سالہ نوین سیکویرا کو گرفتار کیا ہے تو جج نے پولیس افسران پر برہمی کا اظہار کیا ۔ انسپکٹر روسمّا اور سب انسپکٹر ریوتی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ فوجداری معاملات میں ملزمین کی شناختی پریڈ کروانے کی جو شرط ہے اسے بھی پورا نہیں کیا گیا تھا ۔پوکسو معاملہ کے تحقیقاتی مرحلہ میں سنگین کوتاہی کو دیکھتے ہوئے عدالت نے متعلقہ لیڈیز پولیس افسران پر پانچ لاکھ روپئے جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ سنایا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کے لئے پرنسپال سیکریٹری کو ہدایت دی ۔