نیویارک:۔روس نے یوکرین میں خصوصی فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے جسے یوکرین نے اپنے خلاف کھلی جارحیت اور جنگ کا آغاز قرار دیا ہے۔روس نے گزشتہ برس کے اواخر سے یوکرین کی سرحد پر ڈیڑھ لاکھ سے زائد فوجی تعینات کیے تھے جس کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے تواتر کے ساتھ کسی ممکنہ جارحیت کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔ لیکن ماضی میں روس یوکرین پر حملے کے عزائم سے انکار کرتا رہا۔حالیہ کشیدگی اس وقت اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی جب دو روز قبل روس نے یوکرین کے دو علیحدگی پسند علاقوں ڈونیٹسک اور لوہانسک کی آزاد حیثیت تسلیم کرلی تھی اور وہاں اپنی فوج داخل ہونے کے احکامات جاری کیے تھے۔روس کے صدر ولادیمر پوٹن نے ان علاقوں میں’امن قائم کرنے‘ کو اس اقدام کا جواز بتایا تھا البتہ امریکہ نے اس جواز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے اسے یوکرین پر حملے کا آغاز قرار دیا تھا۔یوکرین اور روس کے درمیان جاری حالیہ تنازع کو گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یورپ میں سلامتی کا سنگین ترین بحران قرار دیا جارہا ہے۔روس کے حالیہ اقدام کے بعد سلامتی کا یہ بحران مزید سنگین ہوگیا ہے البتہ یوکرین اور روس کے درمیان تنازعات کی تاریخ طویل ہے اور حالیہ بحران کی جڑیں بھی اسی تاریخی تناظر میں پیوست ہیں۔سوویت یونین میں شامل ہونے سے قبل یوکرین روسی سلطنت کا حصہ تھا۔ 1991 میں سوویت یونین کے خاتمہ ہوا تو یوکرین سمیت 14 آزاد ریاستیں قائم ہوئیں۔لیکن یوکرین کو علیحدہ ملک کے طور پر تسلیم کرنا کئی تاریخی اسباب سے روس کے لیے مشکل رہا ہے۔روس اور یوکرین کے تعلق کی تاریخ نویں صدی سے شروع ہوتی ہے جب کیف قدیم روسی سلطنت کا دار الحکومت بنا تھا اور سن988 میں شہزادہ ولادیمر نے روس کو آرتھوڈکس مسیحیت سے متعارف کرایا تھا۔آج یہی شہر یوکرین کا دارالحکومت ہے۔سن 1654 میں روس اور یوکرین ایک معاہدے کے تحت زارِ روس کی سلطنت میں متحد ہوگئے تھے اور بعد میں یہ سوویت یونین میں بھی ساتھ رہے۔یوکرین کے دو علاقوں کی آزادانہ حیثیت تسلیم کرنے پر امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی روس کیخلاف اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ اٹلانٹک کونسل کے لیے اپنے ایک مضمون میں سابق سفارت کار بوہڈان وٹوٹسکی نے لکھا تھا کہ سوویت یونین میں شامل ہونے سے قبل روسی سلطنت کے دور ہی سے یوکرین کی علیحدہ شناخت برقرار رکھنے کی کوششوں کو دبایا گیا۔اس کے لیے یوکرین کی زبان پر بھی کڑی پابندیاں عائد کی گئیں۔ان کے مطابق 1917 کے انقلاب کے بعد بھی بالشویک فوجوں نے یوکرین پر حملے جاری رکھے اور یوکرین کے علیحدہ ملک بننے والی کسی آواز کو سر نہیں اٹھانے دیا۔وٹوٹسکی کے بقول یوکرین کی علیحدہ حیثیت کو تسلیم نہ کرنا وہ واحد نکتہ تھا جس پر روس میں انقلاب لانے والے اور ان کی مخالف روسی فوج دونوں یکساں مؤقف رکھتے تھے۔روس میں انقلاب کے بعد 1920 سے 1930 کے دوران سوویت آمر جوزف اسٹالن نے یوکرین کے علیحدہ ریاست بننے کے امکانات ختم کرنے کے لیے وہاں کے دانشوروں اور کسانوں کیخلاف دہشت گردی کی منظم کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا۔سوویت دور کے آخری برسوں تک یوکرین کی علیحدہ حیثیت کے حامیوں کے خلاف سخت پالیسیاں نافذ رہیں۔اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے آزادی کے بعد یوکرین نے مغربی ممالک سے اپنے روابط بڑھانا شروع کیے۔نیٹو نے بھی مشرقی یورپ میں اپنا دائرہ اثر بڑھانے کے لیے کئی ممالک کو دفاعی اتحاد کا حصہ بنانا شروع کیا۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد سوویت یونین ایک بالادست قوت کے طور پر ابھری تھی۔ اسی لیے سرد جنگ ختم ہونے کے بعد سوویت یونین کا حصہ رہنے والے یورپی ممالک نے روس کے اثر سے نکلنے کے لیے نیٹو کا رْخ کرنا شروع کیا۔ یوکرین بھی ان ممالک میں شامل تھا۔ لیکن سوویت یونین میں شامل دیگر ممالک کے مقابلے میں یوکرین کی نیٹو میں شمولیت روس کے لیے ایک حساس معاملہ رہا ہے۔گزشتہ برس کے دوران مشرقی یوکرین میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہو گیا اور اس وقت جنگ کے خطرات منڈلانے لگے جب روس نے یوکرین کی سرحد پر بڑی تعداد میں فوج تعینات کر دی۔دسمبر میں یوکرین کے وزیرِ دفاع نے تصدیق کی تھی کہ روس کے زیرِ انتظام کرائمیا میں 94ہزار سے زائد روسی فوجی تعینات ہیں۔ انہوں نے رواں برس جنوری میں کسی ممکنہ تصادم کا خدشہ بھی ظاہر کیا تھا۔روس نے اس بارے میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پر فوج تعینات کررہا ہے جس کی وجہ سے کسی اور کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔روس یوکرین پر 2015 کی جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے لیے مغربی ممالک کو بھی موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔اس معاہدے کو روس کی کامیابی قرار دیا جاتا تھا کیوں کہ اس کے ذریعے یوکرین کو باغیوں کے زیر اثر علاقوں کو زیادہ سے زیادہ خود مختاری دینے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس معاہدے میں یوکرین نے علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کی پیش کش بھی کی تھی۔یوکرین بھی روس پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتا رہا ہے۔ روس کی تردید کے باجود یوکرین کا اصرار ہے کہ اس کے مشرقی خطے میں روسی فوجی موجود ہیں۔حالیہ کشیدگی کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی شمولیت کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے اور اس کے ساتھ جنگی مشقیں کرنے پر روس امریکہ اور نیٹو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے۔ روس کا الزام ہے کہ امریکہ اور نیٹو یوکرین کو باغیوں سے وہ علاقے واپس کے لینے کے لیے طاقت کے استعمال پر اکسا رہے ہیں جن کا کنٹرول انہوں نے 2014 میں حاصل کیا تھا۔یوکرین نیٹو کا رکن نہیں ہے لیکن 2008 سے عندیہ دے رہا ہے کہ وہ جلد اس اتحاد کا حصہ بن جائے گا۔ 2014 میں روس کی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد سے یوکرین مغربی ممالک کے قریب ہوا ہے۔ یوکرین نے نیٹو کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں، امریکہ سے ٹینک شکن میزائل اور ترکی سے ڈرون بھی حاصل کیے ہیں۔
