دہلی:سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے بٹ کوئن پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ بٹ کوئن کو قانونی حیثیت حاصل ہے یا نہیں۔ ایک عرضداشت پر سماعت کے دوران عدالت نے بٹ کوئن پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔ خاص بات یہ ہے کہ مرکزی بجٹ 2022 میں بھی مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارامن نے ڈیجیٹل اثاثوں پر ٹیکس لگانے کی بات کہی تھی۔جسٹس ڈی وائی چندرچور اور جسٹس سوریا کانت کی بنچ نے مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت میں حاضر ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایشوریہ بھاٹی سے سوال کیا کہ ‘ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت حاصل ہے یا نہیں؟ آپ کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیے۔ عدالتGainBitcoin گھوٹالے کے ملزم اجے بھردواج کی طرف سے دائر عرضداشت پرسماعت کر رہی تھی۔ بھاردواج پر اپنے بھائی امت کے ساتھ مل کر ایک کثیر سطحی مارکیٹنگ اسکیم چلانے کا الزام ہے جس میں سرمایہ کاروں کو بھاری منافع کا وعدہ کیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے ٹیکس کا خصوصی نظام نافذ کیا گیا۔ کسی بھی ورچوئل ڈیجیٹل اثاثہ کی منتقلی سے حاصل ہونے والی آمدنی پر ٹیکس کی شرح 30 فیصد ہوگی۔ وزیر خزانہ نے کہا تھا، "ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں میں منتقلی میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ رقومات کی ورچوئل ڈیجیٹل اثاثوں میں منتقلی کا جائزہ لینے کے بعد ہی ٹیکس کی شرح کو متعارف کرنے کا فیصلہ کیاگیاہے۔
