ہرشا کے قتل کے پیچھے مسلم تنظیموں کا ہاتھ ہے:پرتاپ سمہا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔میں ریاستی حکومت سے بآواز بلند کہتاہوں کہ ہندو کارکن راجو، مڈکیری کٹپا مگڑی، روی، کے قتل کو ہم نےقریب سے دیکھا ہے۔ اسلئے کہہ رہا ہوں کہ ہرشا کا قتل محض دشمنی نہیں بلکہ اسکے پیچھے مسلمانوں کا مذہبی تعصب چھپا ہوا ہے۔ یہ الزام میسور کورگ رکن پارلیمان پرتاپ سمہانے لگایا ہے۔انہوں نے ہرشا کے خاندان والوں سےملاقات کرنے کے بعد نامہ نگاروں سےبات کرتے ہوئے کہاکہ ہرشاکے قتل کو محض قتل قرار دیتے ہوئے ایف آئی آر داخل ہوتی ہے تو ملزمین ضمانت کے بعد جیل سے رہا ہوجائینگے۔ رکن پارلیمان نے ماگڑی روی کے قتل میں ملوث حمید پاشاہ کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ ماضی میں جتنے بھی ہندوکارکنوںکے قتل ہوئے ہیں اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں مسلم تنظیموںکا ہاتھ ضرور رہاہے لہٰذا میرا دعویٰ ہے کہ اس قتل کے پیچھے بھی کوئی تنظیم ضرور ہوگی۔لہٰذا ہرشا کےقاتلوں پر صرف دفعہ302 کے تحت مقدمہ درج کرنا کافی نہیں ہے انہیں یو اے پی اے یا کوکا کے تحت سخت اقدامات اٹھانے چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قاتلوں کا کوئی دھرم ، کوئی مذہب نہیں ہوتاہے یہ کہنا غلط ہے۔ ہندو کارکنوں کو ٹارگیٹ بنانے کے پیچھے مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں ہندو کارکنوں کو ٹارگیٹ بنانے سے بچانا ہوگا۔آپ ہی کی سرکار میں ایسا ہوا ہے؟۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پرتاپ سنہا نے کہا کہ یہ واردات ہماری ہی حکومت میں ہوئی ہے لیکن ہرشا کے قتل کے محض 48 گھنٹے کے اندرملزمین کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ حکومت پر ہمیں پورا یقین ہے۔ مجرموں کومناسب سزا دی جائیگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت ایس ڈی پی آئی اورسی ایف آئی جیسی تنظیموں کو بند کرنے کی منظم تیاری کرچکی ہے۔