بنگلورو:۔ ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی صدارت میں بزمِ شاہین کا چالیسواں کل ہند مشاعرہ بنگلور میں منعقد ہوا ۔ اس بزم کے روحِ رواں محمد اکرم عرف باباجی ہیں ۔ وہ ایک باعلم اور باعمل انسان ہونے کے ساتھ ساتھ شعر و ادب کا نہایت پاکیزہ ذوق رکھنے والے انسان ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب بھی مشاعرہ منعقد کرتے ہیں توہر طرح مثالی ہوتا ہے ۔ اب تک انہوں نے ہندوستان کے مختلف مقامات پر بزمِ شاہین کے بیانر تلے بہت سارے کامیاب ترین مشاعروں کا انعقاد کیا ہے۔ غالباً وہ سمجھتے ہیں کہ مشاعرے ہندستان کی مشترکہ تہذیب کی علامت ہیں اور یہ دلوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہیں ۔ اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض مشہور و مقبول ناظمِ مشاعرہ جناب شفیق عابدی نے ادا کئے ۔ جبکہ اس مشاعرے کو عملی طور پر شری پنکج کوٹھاری نے بھی تعاون فراہم کیا ۔ اور اپنا گایتری ہال مشاعرے کیلئے عنایت کیا ۔ وہ ہندستان کی مشترکہ تہذیب سے محبت کرنے والے ایک نیک دل اور ادب نواز انسان ہیں ۔ وہ سچ مچ اردو زبان و ادب سے محبت کرتے ہیں ۔ اس مشاعرے میں حامد بھساولی ، ڈاکٹر سنیل پنوار ؔ،خوشبوؔ رام پوری ، افسرعزیزی ، افضال دانش ، برہان پوری، حسن جلال پوری، راحت حرارتؔ تمل ناڈو ، طیب ؔعزیزی ، وسیم جھنجھانویؔ، سید ظہیر احمد فناؔؔ ، نیاز الدین نیازؔ، انہر سعودیؔ ، عبد العزیز داغؔ، شیخ حسیب ، اشفاق بیگ اشفاقؔ، سید شفیق الزماں ، اور ثناء ساگرؔ نے شرکت کی اور اپنے اپنے کلام بلاغت نظام سے سامعین کو محظوظ فرمایا۔ اس مشاعرے میں شعراء نے جو کلام سنایا اس میں گنگا جمنی تہذیب کا رنگ گھلا ملا ہوا تھا ۔ ڈاکٹر سنیل اورحامد بھساولی نے اپنے اپنے خوبصورت کلام اور دلکش اندازِ بیاں اور خوبصورت اظہار کے روشن انداز سے سامعین کے دل جیت لئے ۔ سامعین نے انہیں خوب خوب داد سے نوازا اور اپنی مسرت کا اظہار کیا ۔ اس مشاعرے کا باضابطہ آغاز محمد اکرم عرف باباجی کے ابتدائی خطاب سے ہوا جس میں انہوں نے مہمانانِ گرامی اور شعراء کرام کے ساتھ ساتھ سامعین کا استقبال کیا ۔ اور اپنے چالیسویں مشاعرے تک کے سفر کی روداد سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ ظاہر ہے کہ ایک مشاعرے کے انعقاد میں لوگ اتنے تھک جاتے ہیں کہ دوسرے مشاعرے کے بارے میں مشکل سے ہی سوچ پاتے ہیں ۔ مگر بابا جی نے مشاعروں کی روایت کو تقویت پہونچاتے ہوئے اسے اگلے پڑاؤ تک لے جانے کی بہت ہی کامیاب کوشش کی ہے ۔ اس مشاعرے کے آغاز سے پہلے بہت سارے مہمانانِ گرامی کا اعزاز بھی کیا گیا ۔ اس خصوصی مشاعر ے کی انفرادی خوبی یہ بھی تھی کہ اس موقع سے صوفی گائیکی کی روایت کی شمع بھی روشن کی گئی ۔ اور کھنک جوشی نے اپنی خوبصورت آواز میں صوفی گائیکی کی مثال پیش کی ۔ اور حافظؔ کرناٹکی کی غزلیں سنا کر سماں باندھ دیا۔ ان کی آواز اور حافظؔ کرناٹکی کے کلام کے سحر نے سامعین کو مبہوت بنادیا۔ سید تبریز اور نیاز الدین نیازؔ نے نہایت خوب صورت انداز میں نعتیں سنا کر مدحتِ رسول کا سماں باندھا۔ افسر عزیزی نے نہایت پاکیزہ کلام سنایا۔ اور نسوانی غیرت و حمیت اور وقار کو رفعت بخشنے کی کامیاب اور دلکش کوشش کی ۔ بعد ازاں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے صدارتی کلمات اور کلام پیش کئے۔ ڈاکٹرحافظؔ کرناٹکی نے کہا کہ میں آج بزمِ شاہین کے اس چالیسویں مشاعرہ میں شرکت کرکے خوشی محسوس کررہا ہوں ۔ کیوں کہ مشاعروں کا یہ سلسلہ اپنے سلورجوبلی دور سے آگے نکل چکا ہے ۔ان چالیس کامیاب ترین مشاعروں کے انعقاد میں بابا صاحب نے جو تکلیفیں اٹھائی ہونگی اور اردو زبان و ادب اور شعر و سخن کی ترقی کیلئے جن مشکلوں سے گذرے ہونگے وہ تو وہی جانتے ہونگے ۔ مگر زبان سے محبت کا جذبہ دیکھئے کہ ان کے جبینِ نیاز پر کبھی شکن نہیں آئی ۔ میں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس بات پر بھی خوشی اور فخر ہے کہ ہمارے درمیان شفیق عابدی جیسے نہایت باصلاحیت ناظمِ مشاعرہ موجود ہیں جو پوری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں ۔ اور اپنی ریاست کا نام روشن کر رہے ہیں ۔ میں جب بھی یوٹیوب پر انہیں کسی مشاعرے کی نظامت کرتے دیکھتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے ۔ حافظؔ کرناٹکی نے اپنا خطاب جاری رکھا اور خطاب و کلام کا خوبصورت سنگم بنے رہے ۔ انہوں نے رباعیاں بھی سنائیں اور اردو برادری کو حوصلہ بڑھاتے ہوئے اردو سے محبت رکھنے والے لوگوںکی تعریفیں بھی کیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھلے سے اردو اکادمیاں منفعل ہوچکی ہیں ۔ مگر آپ حضرات کو مایوس نہیںہونا چاہیئے ۔ اردو کی محبت کا یہ سفر اسی طرح جاری رہے گا ۔ اور اکادمیوں کے عدمِ تعاون کے باوجود اردو کی ترقی کی راہیںروشن رہیں گی ۔ بس ہمیں اپنے جذبے اور حوصلوں کو بلند رکھنا ہے ۔ ڈ اکٹرحافظؔ کرناٹکی نے سبھی شعراء کے کلام کی تعریفیں کیں ۔ اور ان کے کلام کی خوبیوں کی داد دی ۔ اس مشاعرے کے شعراء اور سامعین اور مہمانوں کا شفیق عابدی نے اپنے مخصوص انداز میں شکریہ ادا کیا ۔ مگر اس سے پہلے کہ مجلس برہم ہوتی شری پنکج کوٹھاری نے سبھی مہمانوں اور شرکاء مشاعرہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ مجھے سچ مچ اردو زبان سے محبت ہے ۔ یہ اردو زبان سے محبت ہی کا فیضان ہے کہ میں جناب نیاز الدین نیازؔ صاحب کے ساتھ رہتاہوں اور ان کی دوستی پر ناز کرتا ہوں ۔ مجھے اپنے ہندوستانی ہونے پر اس لئے بھی فخر ہے کہ ہندوستان میں اردو زبان ہے جو دلوں کو جوڑتی ہے ۔ اور زندگی کا سلیقہ سکھاتی ہے ۔ میں سبھی لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ حضرات خالص ہندوستانی کھانا تناول فرما کر ہی یہاں سے رخصت ہوں ۔ اس مشاعرے میں سامعین نے جس دلچسپی ،اپنائیت، تہذیب شناسی اور شعر فہمی کا مظاہرہ کیا وہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے ۔ یہ مشاعرہ بہت کامیاب رہا ۔
