بنگلورو:۔ریاستی ہائی کورٹ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ریاستی حدود کے تمام جیل خانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنا ضروری ہے، ورنہ وہاں ہونے والی غیر قانونی سرگرمیوں پر قابو پانا مشکل ہے۔ حال ہی میں پراپنا اگراہارا کے سنٹرل جیل میں منشیات، تمباکو اشیاء اور دیگر غیر قانونی سازوسامان کا پتہ لگنے کے سلسلہ میں عدالتی افسران کے ذریعہ تحقیق کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اڈوکیٹ دھرماپال کی جانب سے دائر مفاد عامہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس ریتوراج اوستھی اور جسٹس سورج گووند راج پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے اس خیال کا اظہار کیا۔ عرضی گزار نے الزام لگایا کہ جیل خانوں میں چند افسران قیدیوں کے ساتھ ہاتھ ملا کر ان سے رقم حاصل کرکے گانجہ ودیگر منشیات سپلائی کررہے ہیں لیکن حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا ہے۔ ا س سلسلہ میں تبصرہ کرتے ہوئے اوستھی نے کہا کہ جیل خانوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کئے گئے تو اس طرح کی بے قاعدگیوں پر روک لگانا مشکل ہے، اس لئے حکومت کیمرے نصب کرے۔ حکومت کے وکلاء نے بتایا کہ عرضی گزار کے الزام کا کوئی ثبوت نہیں ہے،ا س کے باوجود اسے ڈی جی پی مروگن کو تحقیقی افسر نامزد کیا گیا ہے۔
