مسلم اکثریتی ملک چیچنیا روس کے ساتھ؛ چیچنیا کے سربراہ رمضان قادروف (قادری)آخر کون ہیں ؟

قادروف روس میں ایک طاقت ور شخصیت بن چکے جن کا روسی فیڈریشن میں کافی اثر و رسوخ ہے۔ وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے شمالی قفقازی جمہوریہ اور چیچنیا میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کریملن کے مضبوط ہاتھ کے طور پر جانے جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چیچن جمہوریہ قادروف کی نجی جاگیر بن چکی ہے جسے چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے قادروف پر طاقت کے بے جا اور غیر قانونی استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں جن میں اختلاف کرنے والوں کی جبری گمشدگی، تشدد اور ہم جنس پرستوں پر ظلم و ستم شامل ہیں۔قادروف پر یہ الزام بھی لگا کہ انھوں نے اپنے کئی مخالفین کو قتل کروایا جن میں سے کچھ یورپ میں تھے لیکن وہ اپنے اوپر عائد ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔سنہ 2015 میں، قادروف نے ایک چیچن سیکیورٹی گارڈ کی تعریف کی جس پر روسی مخالف بورس نیمتسوو کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ واضح رہے کہ بورس کو روسی صدر پوتن کے بڑے مخالفین میں سے سمجھا جاتا تھا۔قادروف(قادری) نے کہا تھا کہ کہ روس کی وزارت داخلہ کے افسر زاؤر دادائیف روس کے وفادار ہیں اور مادر وطن کے لیے اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دادایف کی اس تعریف کے ایک ہی دن بعد، قادروف کو پوتن نے ایک اعلیٰ تمغے سے نوازا تھا۔
چیچنیا کے رہنما رمضان قادروف نے 25 فروری کو اعلان کیا کہ ان کے وفادار چیچن جنگجو یوکرین میں روسی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ایک تقریر میں قادروف نے کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے درست فیصلہ کیا ہے اور ہم ان کا ساتھ دیں گے، چاہے حالات کچھ بھی ہوں۔یوکرین میں تعینات چیچن جنگجوؤں کی تعداد کتنی ہے، اس پر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ لیکن چند میڈیا اطلاعات میں 10 ہزار جنگجوؤں کا ذکر کیا گیا ہے اور کئی ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔قادروف نے دو چیچن جنگجووں کے ہلاک ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن کچھ اطلاعات کے مطابق یہ تعداد کہیں زیادہ ہے۔قادروف روس میں ایک طاقت ور شخصیت بن چکے جن کا روسی فیڈریشن میں کافی اثر و رسوخ ہے۔ وہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے شمالی قفقازی جمہوریہ اور چیچنیا میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کریملن کے مضبوط ہاتھ کے طور پر جانے جاتے ہیں، حتیٰ کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چیچن جمہوریہ قادروف کی نجی جاگیر بن چکی ہے جسے چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں نے قادروف پر طاقت کے بے جا اور غیر قانونی استعمال کے الزامات عائد کیے ہیں جن میں اختلاف کرنے والوں کی جبری گمشدگی، تشدد اور ہم جنس پرستوں پر ظلم و ستم شامل ہیں۔قادروف پر یہ الزام بھی لگا کہ انھوں نے اپنے کئی مخالفین کو قتل کروایا جن میں سے کچھ یورپ میں تھے لیکن وہ اپنے اوپر عائد ان الزامات سے انکار کرتے رہے ہیں۔
