بنگلورو:۔امسال کا ریاستی بجٹ بے حدمایوس کن اورگمراہ کن ہے۔یہ اسطرح کا بجٹ ہےجسطرح وزیر اعظم نریندرمودی کے 15 لاکھ روپے کا اعلان تھا۔اس بات کی تنقید ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے صدر طاہر حسین نے کی ہے ۔ انہوں نےصحافیوں سے اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بجٹ میں کئی الجھنیں ہیں، حکومت کس طرح ریاست کو زعفرانی کرنے جا رہی ہے اس کا اندازہ اس بجٹ سےبخوبی لگایا جاسکتاہے۔بجٹ میں 33 گوشالاکو بڑھاکر 100 کرنے کی تجویز ہے۔ لیکن موجودہ گوشالوں کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے نہیں کی جارہی ہے۔ پونیا کوٹی گود لینے کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ایک گوشالاسے گائے خریدینے والامنصوبہ ہے۔پہلے ہی مویشیوں کے ذبیح پر پابندی لگانے کے بعد کسان اپنے مویشیوں کو فروخت کرنے کیلئے پریشانی کا سامنا کرہے ہیں۔ اب انکی الجھنیں مزیدبڑھانے کا کام ہواہے۔ اس بجٹ میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ عیسائی ترقی کیلئے 50 کروڑ، جین اور سکھ برادری کیلئے 50 کروڑ لیکن مسلمانوں کو کتنی رقم دی جائے گی اس کی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ وقف جائیدادکے سروے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کیلئے مالی امداد نہیں ملےگی۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کو فروغ دیتے ہوئے اسکول کا نام عبدالکلام کے نام پر رکھے جانے کا اعلان ہوا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ کونسے اسکول نئے اسکول یا پرانے اسکول یا صرف نام کی تبدیلی ہوگی یہ بھی واضح طور پر نہیں بتایا گیا ہے۔جملہ طور پر کہا جائے تو یہ بجٹ جھوٹےبھروسوں سے بھرا ہوا ایک ڈھونگی بجٹ ہے۔
