شیموگہ:۔پچھلے دنوں کرناٹک کے شیموگہ میں ہرشانامی نوجوان کا قتل ہو اتھا،جس کے ملزمان کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیاتھا،اسی فیصلے کے مطابق ریاستی حکومت نے یو اے پی اے (ان لاء فل آیکٹیوٹیز پروینشن ایمنڈمینٹ آیکٹ)کے تحت معاملات درج کئے گئے ہیں۔ہرشاکے قتل کے معاملے میں جملہ دس افراد کوتحویل میں لیا گیا ہے جن میں سے پانچ ملزمان کو قتل کی واردات انجام دینے اور پانچ افراد کو قتل کی واردات کا تعائون کرنےکے الزام میں گرفتارکیاگیاہے ۔ گرفتار ہونے والے ملزمان کی شناخت محمد کاشف،سید ندیم،آصف اُللہ خان، ریحان شریف، نہال، عبدل افنان، فراز پاشاہ،قادر،عبدالروشن، بدرالدین عرف جعفر،صادق عرف بدری ہیں۔ان تمام ملزمان کو پولیس نے گیارہ دن قبل پولیس تحویل میں لیتےہوئے پوچھ تاچھ کی تھی،اب ان کی پوچھ تاچھ کی معیاد مکمل ہوچکی ہے اور تمام ملزمان کو آج عدالت کے سامنے پیش کرتےہوئے عدالتی تحویل میں بھیجاگیا ہے ۔ ہرشاکے قتل کے معاملے میں یو اے پی اے کا استعمال کیا گیا ہے ، یہ قانون ریاست میں پہلی دفعہ کسی قتل کے ملزمان کیلئے استعمال کیاگیاہے۔اس سے پہلے اس قانون کو ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ وارداتوں کو انجام دینے والے ملزمان کیلئے استعمال کیاجاتاتھا ۔ ہرشا قتل کے تعلق سےتمام تحقیقات مکمل ہوچکی ہیں۔تحقیقات مکمل ہونے کے باوجود اب تک ملزمان کی جانب سے کسی بھی وکیل نے وکالت نامہ پیش نہیں کیاہے جس سے ملزمان کو قانونی امداد نہیں مل رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس معاملے کی وکالت کیلئے ملزمان کی طرف سے بنگلورو کے ماہر وکلاء کی مددلینے کی تیاری ملزمان کررہے ہیں۔وہیں دوسری جانب بعض لوگوں کاخیال ہے کہ شیموگہ سے تعلق رکھنے والے وکلاء ان ملزمان کی وکالت کیلئے تیارنہیں ہیں۔ملزمان پر یو اے پی اے عائدکئے جانےکے باوجود اب بھی بی جے پی کے لیڈران اس بات کامطالبہ کررہے ہیں اس معاملے کی تحقیقات این آئی اے کی طرف سے کروائی جائے،لیکن ریاست کےوزیر داخلہ ارگا گیانیندرانے کہاکہ ان کی پولیس ایسے معاملات کو حل کرنے کیلئے ماہر ہے اور ریاستی پولیس ہی اس معاملے کی تحقیقات و نگرانی کریگی۔
اس پورےد معاملے میں دو افرادکے تعلق سے عام لوگوں کی رائے ہے کہ دونوں خوامخواہ اس معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ندیم کے تعلق سے اہل خانہ کے علاوہ مقامی لوگوں کی بھی یہ رائے ہے کہ ندیم نہایت خاموش طبیعت کالڑکاہے اور وہ اس معاملے میں ہرگز بھی نہیں جاسکتا اور یہ کسی غلط فہمی کا شکارہواہے،جبکہ جعفر عرف بدری کے تعلق سے بھی لوگوں کاکہناہے کہ بدری براہ راست اس معاملے میں نہیں پھنسا ہے بلکہ اس کے بیٹے کی غلطی کی وجہ سے پھنساہو ا ہے ۔ دراصل بیٹے کو بچانے کے چکرمیں بدری خود پھنس گئے ہیں اور وہ ان معاملات میں شامل ہواہو اس کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔
