لکھنؤ:۔آل انڈیامسلم پرسنل لابورڈ کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کی صدارت میں منعقد ہوئی، اس نشست میں کئی اہم امورپر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے کئے گئے۔جس میں حجاب کے تعلق سے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ پر مجلس عاملہ میں تفصیل سے اظہار خیال ہوا۔نشست میں اڈوپی اسکول کی طالبات کے حجاب کے مسئلہ پر کورٹ کا فیصلہ نہ صرف یہ کہ دستور ہند کی دفعہ 15 ( یعنی مذہب، نسل، جنس، ذات اور جائے پیدائش کی بنیاد پر تفریق و امتیاز کی نفی) کے خلاف ہے بلکہ دستور کی دفعہ 14, 19, 21 اور 25 کے بھی خلاف ہے۔ ملک کا دستور ملک کے ہر شہری کو اپنی شناخت اور وقار کے ساتھ جینے کاحق اور شخصی آزادی کا اختیار دیتا ہے۔ عاملہ کا احساس ہے کہ یہ فیصلہ نہ صرف شخصی آزادی کے منافی ہے بلکہ مذہبی وثقافتی آزادی کے حق کو بھی سلب کرتا ہے۔ارکان مجلس عاملہ نے اس بات پر بھی گہری تشویش ظاہر کی کہ یہ فیصلہ مسلم طالبات کی تعلیم کے حق کو بھی متأثر کریگا۔ اس فیصلہ نے مسلم طالبات کے سامنے یہ سوال بھی کھڑا کردیا ہے کہ وہ تعلیم اور حجاب میں سے کس کو ترجیح دیں۔ گو کہ اس فیصلہ کا تعلق اڈوپی ( کرناٹک ) اسکول کی طالبات کے شخصی حق اور مذہبی آزادی سے متعلق تھا۔ تاہم اب اسے کرناٹک کے تمام اسکولوں، جونیئر کالجوں اور بور ڈکے امتحانات تک وسیع کردیا گیا جو انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔ہائی کورٹ نے شخصی آزادی کے حق پر بات کرتے ہوئے یہ فیصلہ بھی دے دیا کہ حجاب اسلام کا لازمی جزء نہیں ہے،تو ” کیا اب عدالتیں یہ بھی طے کریں گی کہ کس مذہب میں کونسی چیز لازمی ہے اور کونسی چیز لازمی نہیں” ، مجلس عاملہ اس تعلق سے یہ واضح کردینا ضروری سمجھتی ہے کہ کس مذہب میں کو نسی چیز لازمی ہے اور کونسی نہیں، یہ طے کرنے کا اختیار عدالتوں کو نہیں بلکہ اس مذہب کے علما اور اسکالرز کو ہے۔اسی طرح دستور ہند کی روشنی میں ہر شخص کو یہ طے کرنے کا حق بھی ہے کہ اس کے مذہب نے اس کے لئے کونسی چیز لازمی کی ہے اور کونسی نہیں۔کرناٹک ہائی کورٹ کے اس فیصلہ نے اس بات کا بھی اندیشہ پیدا کردیا ہے کہ آئندہ دیگر مذہبی طبقات کی مذہبی پہچان جیسے پگڑی، صلیب اور بندی وغیرہ پر بھی پابندےلگادی جائے۔مجلس عاملہ نے بورڈ کے ذریعہ ہائی کورٹ کے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کی پرزور تائید کی اور اس پر بھی اطمینان کا اظہار کیا کہ بورڈ کی یہ پٹیشن دو خواتین ارکان کی طرف سے داخل کی گئی اور ایک پٹیشن خود بورڈ کی طرف سے داخل کی گئی ہے۔ مجلس عاملہ نے کرناٹک حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے تک مسلم طالبات کو حجاب کے ساتھ اسکول میں آنے اور امتحان دینے سے نہ روکاجائے۔
