جھونپڑپٹی کے مسلمان

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
پچھلے دنوں کرناٹک کے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی نے کرناٹک کا سالانہ بجٹ پیش کیا۔اس بجٹ میں مختلف محکموں،شعبوں اور حلقوں کیلئے ترقیاتی وعدے کئے گئے،ان وعدوں کا پورا ہونا کس حدتک صحیح ہے یہ تو نہیں معلوم لیکن بجٹ میں مسلمانوں کے تعلق سے جو نقشہ پیش کیاگیا وہ واقعی میں تذلیل کرنے والانقشہ ثابت ہواہے،جس قوم نے بسوراج بومئی کو سماجی انصاف، تعلیم اور روزگارکیلئے مناسب مقام مانگاتھا،اُسی بسوراج بومئی نے مسلمانوں کی زبردست توہین کی ہے۔دراصل بجٹ میں مسلمانوں کویاددلایاگیاہے کہ مسلمان جھونپڑپٹی میں رہنے والی قوم ہے،مسلمان رکشا چلانےوالی قوم ہے،مسلمان سبزیاں اور پھل اور ٹھیلے لگانےوالی قوم ہے۔کیونکہ بجٹ میں کہاگیاہے کہ مسلمانوں کے ٹھیلہ لگانےوالے پھول پھل بیچنے والے گاڑیوں کے مالکان کو،جھونپڑپٹیوں میں رہنےوالوں کو بجٹ مختص کیاگیاہے۔اس کے معنی یہ ہوئے کہ مسلمان صرف ٹھیلے لگانےوالوںمیں سے ہیں،جھونپڑپٹیوں میںرہنےوالوں میں سے ہیں اور ان کی حیثیت صرف پھول پھل اور سبزیاں فروخت کرنے کی ہے،جبکہ بسوراج بومئی نے مٹھوں کیلئے بجٹ مختص کیاہے۔سوال یہ آخر بی جے پی مسلمانوں کی تذلیل کرنے کا سلسلہ کب ختم کریگی؟۔جس قوم میں مسکان جیسی بہادر بیٹی،بشریٰ جیسی16 گولڈ میڈل حاصل کرنے والی قابل انجینئر،ایرواسپیش انجینئر آویز نامی چکمگلوروکے قابل انجینئر اور اے پی جے کلام جیسے لوگ شامل ہیں،اُن کی ترقی و بازآبادکاری کیلئے منصوبے رائج کرنے کے بجائے حکومت نے جھونپڑپٹی اور آٹو رکشا سے تشبیہ دیکر انہیں بے عزت کرنے کی کوشش کی ہے۔ویسے دیکھاجائے تو آج آٹو رکشا چلانےوالوں میں کئی نوجوان ایسے ہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں مگر کیا کریں اس کی شناخت بی جے پی میں ہی نہیں ہے۔بجٹ کی فہرست میں اس طرح کے الفاظ دیکھ کر تعجب ہواکہ کیا واقعی میں مسلمانوں کو اب بھی آٹو،ترکاری اور جھونپڑ پٹی کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے،جبکہ مسلمانوں کی نسلیں تعلیم حاصل کرتے ہوئےاب بہت آگے نکل گئی ہیں،لیکن ان جاہلوں کو کیا معلوم کہ مسلمانوں کو اب آٹو،سبزی گاڑی کی ضرورت نہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقعوں کے ساتھ ساتھ سماجی واقتصادی اور معاشی تعائون کی ضرورت ہے،جس سے مسلم نسلیں آگے بڑھیں۔افسوسناک بات یہ ہوئی ہے کہ اس وقت مسلمان حکومت کے اس رویہ پر خاموشی اختیارکئے ہوئے ہیں۔حالانکہ بجٹ پیش ہونے سے پہلے ہی مسلم نمائندوں کا ایک گروہ کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرنے پہنچاتھا مگر دُنیا والے اب یہ پوچھ رہے ہیں کہ آخر اُس وقت جو باتیں ہوئی تھیں اُن کا کیا ہوا؟