ترجیحی شعبوں کو ترجیح دینے کیلئے بینک اڈوائزرس کو ہدایت: رکن پارلیمان

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ترجیحی شعبوں کیلئےمقررہ امداد اورمنصوبوں کے بروقت استعمال کو یقینی بنانے کا مشورہ رکن پارلیمان بی وائی راگھویندرا نے متعدد بینکوں کے مینجروںکو دیا ہے۔ انہوں نےآج ضلع پنچایت کے عبدالنظیرصاحب ہال میں ڈسٹرکٹ گائیڈلائنس بینک کے زیر اہتمام تیسری سہ ماہی ترقیاتی اجلاس کا جائزہ لیا اوراس نشست کی صدارت کرنے کے بعدکہا کہ غریب شہریوں کوجگہ پر ہی رہائش گاہ کی تعمیر کرتے ہوئے آرام داہ زندگی گذارنے کیلئے حکومت کے متعدد محکموں کے ذریعہ بہت سے بینکوں کی مدد سے قرض فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ بہت سےبینکوں میں تعلیم اور ہاؤسنگ اسکیموں میں اہل مستحقین کو پیش کردہ قرض کی رقم میںنمایاں طور پر کمی لائی گئی ہے ۔ اس سے ترقی میں رکاوٹ پیش آنے کا خدشہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بینک مینجر وں کو مشورہ دیا کہ وہ مقررہ وقت کے اندر ہدایت کے مطابق امداد جاری کرتے ہوئے ترقیاتی رپورٹ پیش کرنے کے اقدام اٹھائیں۔ اہل افراد کو سہولیات دینے میں کوتاہی نہ برتیں اور سہولت کیلئے بینکوں کا رخ کرنے والے صارفین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کا مشورہ دیا ۔مزید کہا کہ سہولت میں موجود معمولی کوتاہیوں کو دور کریں اور کسی بھی درخواست کو معمولی وجوہات کی بناپر مسترد نہیںکرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے ضلعی حکام پر زور دیا کہ وہ آج اور گزشتہ اجلاس میں غیر حاضر رہنے والوں کے خلاف مسلسل کارروائی کریں۔ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کی اسکیموں اوراسکافائدہ عوام تک پہنچنے میں بینک اور متعلقہ محکموں کے حکام کو مخلصانہ کوشش کرنی چاہئے۔ مرکزی حکومت آزادی کا امرت مہتسومنارہا ہے جس کے پیش نظر ملک کے 75 اضلاع میں ڈیجیٹل بینک قائم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔شیموگہ ضلع میں بھی ڈیجیٹل بینک کو قائم کرنے کیلئے حکومت کو تجویز پیش کرنے پر ضلع پنچایت سی ای او کو  ہدایت دی گئی۔ رکن پالیمان نے بتایا کہ اگلے چند دنوں میں بینک خدمات کی طرح محکمہ ڈاک بھی کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے دیہی باشندوں کو فائدہ پہنچے گا۔اجلاس میں موجود ضلع ڈپٹی کمشنرڈاکٹر سیلوامنی نے کہا کہ سلم علاقوں کے مکینوں کو اپنا ذاتی گھر بنانےکیلئے قرض کی سہولیات کی دستیابی سے متعلق مسائل پر بینک کے سربراہوں اور محکموں کے سربراہوں کے ساتھ مشاورت میں ضروری کارروائی کرنے کی بات بتائی ۔ نشست میںسپریا بینرجی، سندیپ رائو، بی روی ، یتیش سمیت تمام بینکوں کے || منیجرز، این جی اوز اور رضاکار تنظیموں کے نمائندے موجود تھے۔