نواب ملک کی وزارت کا کام دیگر رہنما سنبھالیں گے، این سی پی اجلاس میں فیصلہ

سلائیڈر نیشنل نیوز
ممبئی: مہاراشٹر حکومت میں وزیر نواب ملک کو لے کر ہنگامہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ایک طرف بی جے پی مسلسل نواب ملک کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے تو دوسری طرف حکمراں پارٹی کا الزام ہے کہ انہیں غیر ضروری طور پر پھنسایا گیا ہے۔ تاہم جو ذمہ داریاں اس وقت نواب ملک کے پاس ہیں، وہ اب دیگر رہنماؤں کو سونپ دی جائیں گی۔این سی پی کے صدر شرد پوار کے گھر پر گزشتہ شام تقریباً دو گھنٹے تک پارٹی لیڈروں کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اجلاس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ نواب ملک کی وزارت کی ذمہ داری دیگر رہنماؤں کو دی جائے گی۔ حالانکہ نواب ملک وزیر رہیں گے یا نہیں اس بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔این سی پی کے ریاستی صدر جینت پاٹل نے اپنے بیان میں کہا کہ میٹنگ میں نواب ملک اور ان کے وزارتی عہدہ سے متعلق مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے گرفتاری کے بعد دیگر وزرا کو ان کے محکموں اور اضلاع میں ذمہ داریاں سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جن میں وہ سرپرست وزیر رہ چکے ہیں۔ اب پربھنی میں دھننجے منڈے اور گونڈیا کے پراجکت تانپورے سرپرست وزیر ہوں گے۔ نواب ملک کے پاس اقلیتی وزارت اور اسکل ڈیولپمنٹ کا محکمہ ہے، ان دونوں محکموں کی ذمہ داری بھی وزیر اعلیٰ سے بات چیت کر کے دیگر وزرا کو سونپی جائے گی۔ اس کے علاوہ نواب ملک ممبئی این سی پی کے صدر بھی ہیں، آنے والے بی ایم سی انتخابات کی تیاریوں کے پیش نظر پارٹی نے نریندر رانے اور راکھی جادھو کو ممبئی میں ورکنگ صدر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ نواب ملک کے جیل جانے کے بعد اب دونوں رہنما ممبئی این سی پی کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔نواب ملک کے قلمدان کی ذمہ داری دیگر وزرا کو سونپنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کے باوجود این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر کے عہدے سے نواب ملک کا استعفیٰ قبول نہیں کیا جائے گا، کیونکہ انہیں غیر ضروری طور پر پھنسایا گیا ہے۔