بھگوت گیتاکی صرف دلچسپی رکھنے والوں کوپڑھائیں،مسلط کرناغلط; جب اسکول میں مذہبی ڈریس کی اجازت نہیں توگیتااوررامائن کیوں؟علماء کاردعمل

سلائیڈر نیشنل نیوز
دیوبند:۔میڈیارپورٹ بتاتی ہے کہ دیوبندکے مبینہ علماء نے گجرات حکومت کے بھگوت گیتا کو اسکول کے نصاب میں شامل کرنے کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ اسکول میں مذہبی کتابیں پڑھانا غلط نہیں لگتا لیکن جو لوگ رضامند نہیں ہیں ان پر اسے مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس دوران انہوں نے حجاب کے حوالے سے کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق دیوبند میں قائم سماجی تنظیم جمعیت دعوت المسلمین کے سرپرست مولانا قاری اسحاق گوڑا نے کہاہے کہ حکومت کو پہلے طلبہ کی رضامندی حاصل کرنی چاہیے اور صرف ان کو پڑھانا چاہیے جو رضامند ہوں۔تمام مذاہب کی مذہبی کتابوں کو پڑھنا اور جاننا اچھی بات ہے۔ میں نے اپنی اور دوسرے مذہب کی مذہبی کتاب پڑھی ہے، میں نے گیتا پڑھی ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ مذہب یا اس کی مقدس کتاب کو کسی پر مسلط کرنا درست نہیں ہے۔ مولوی اسحاق نے مزیدکہاہے کہ اسکول تعلیم کامندرنہیں۔ کسی خاص مذہب کے نظریے کا پرچار کرنے والا مندرنہیں ہے۔ انہوں نے بتایاہے کہ حال ہی میں حجاب کے معاملے پر کرناٹک ہائی کورٹ نے کہاہے کہ اسکول برابری پرچلے گا نہ کہ کسی مذہبی عمل سے۔ تو اگر ہم عدالت جائیں تو کیا گیتا کو اسکولی تعلیم میں شامل کرنا درست ہے؟مقامی عالم مفتی اسد کاظمی نے کہاہے کہ نوجوان ذہنوں پر کچھ بھی مسلط کرنا غلط ہوگا۔ انہوں نے کہاہے کہ گجرات میں انتخابات سے پہلے، حکومت نے سرکاری اسکولوں میں 6ویں سے 12ویں جماعت تک بھگوت گیتا پڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ اسکول میں دیگر مذاہب کے طلبہ بھی پڑھتے ہیں۔ ہم اسکول میں گیتا کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں اور جو بچے مقدس کتاب پڑھنا چاہتے ہیں وہ اسے پڑھ سکتے ہیں، لیکن اسے مسلم طلبہ پر مسلط کرنا غلط ہے۔