داونگیرے:۔یوکرین سے واپس آنے والے طلبہ کو کرناٹک میں ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے تعلق سے حکومت غور کررہی ہے، حکومت کرناٹک کے میڈیکل کورس کی فیس میں بھی کمی کرنے کے بارے میں غور کررہی ہے۔ یہ بات ریاستی وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین بحران کے بعد حکومت ریاست میں میڈیکل کورس کی فیس میں کمی کے لیے اقدامات کرنے پر غور کررہی ہے۔ اس کے علاوہ نیشنل میڈیکل کونسل (این ایم سی) بھی اس کا جائزہ لے رہی ہے جس کا مقصد یہاں زیادہ سے زیادہ طلباء کو سہولت پہنچانا ہے۔انہوں نے کہاکہ مرکز‘ جنگ زدہ یوکرین سے تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس آنے والے میڈیکل طلباء کے لیے متبادل اقدامات کرنے پر غور کررہا ہے۔ بومئی نے کہا کہ میڈیکل تعلیم کا موجودہ خرچ بڑھ رہا ہے۔ حکومت کی نشستوں میں فیس کم ہونے کے باوجود پرائیویٹ شعبہ میں اس میں اضافہ ہورہا ہے۔ بعض معاملات میں طلباء جو 90-95 فیصد مارکس حاصل کرتے ہیں، نیٹ امتحان کامیاب نہیں کرپاتے ہیں۔ چونکہ مینجمنٹ یا این آر آئی سیٹس کی فیس بھی بہت زیادہ ہے، وہ یوکرین جیسے ملکوں میں تعلیم کے دیگر راستے اختیار کرتے ہیں۔“ وہ یوکرین جیسے ملکوں کو جانے کے بجائے ہندوستان میں طبی تعلیم کے حصول کے لیے طلباء کے لیے کافی مواقع فراہم کرنے پالیسیوں میں تبدیلیوں کے منصوبوں پر سوال کا جواب دے رہے تھے۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس سلسلے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ ریاست میں فیس میں کمی کرنے ہم اے، بی اور سی زمرہ بندی کا منصوبہ بنارہے ہیں مگر چوں کہ طبی کورسس‘ نیشنل میڈیکل کونسل (این ایم سی) کے زیرکنٹرول ہیں وہ بھی اس کا جائزہ لے رہے ہیں۔ یوکرین بحران کے پس منظر میں یہ چیزیں زیرغور ہیں۔ایک سوال پر کہ کیا حکومت تعلیم ادھوری چھوڑ کر یوکرین سے واپس طبی طلباء کے لیے متبادل انتظامات کا منصوبہ بنارہی ہے چیف منسٹر نے کہا کہ مرکزی حکومت اس پر غور کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وہاں کورسس یہاں سے مختلف ہیں۔ وہاں کورس مکمل کرنے پر طلباء کو یہاں پریکٹس کرنے امتحانات کامیاب کرنا ہوتا ہے۔ سال اول، دوم اور سوم کے تمام طلباء واپس ہوچکے ہیں۔ چوں کہ طلبا ء کا تعلق مختلف ریاستوں سے ہے، مرکز اس پر غور کررہا ہے۔
