حجاب پہننے والی معلمہ ہوئی سسپنڈ،سنگھی ذہنیت کی اور ایک مثال

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر

بنگلورو:حجاب پہن کر امتحانی مرکز کو آنے والی ایک معلمہ کو چیف ایگزمینرنے سسپنڈکیاہے۔حجاب پہن کر اسکول کو نہ آنے کیلئے پہلے ہی حکومت نے طالبات کو احکامات دئیے ہیں ،لیکن سنگھی ذہنیت رکھنے والے محکمہ تعلیمات کے ایک افسر نے راجاجی نگرکے کے ٹی ایس وی ہائی اسکول کی معلمہ نورفاطمہ کوحجاب پہن کرآنے پر اعتراض جتاتے ہوئے حجاب نکالنے کی تاکیدکی،لیکن معلمہ نورفاطمہ نے یہ کہہ کر انکارکیاکہ حجاب نکال کرآنے کیلئے طالبات کو حکم دیاگیاہے نہ کہ اساتذہ کو۔اس پر ایگزمینرنے انہیں امتحانی مرکز سے برخواست کرتے ہوئے سسپنڈ کرنے کی سفارش کی ہے۔ان کی جگہ پر دوسری معلمہ کو خدمات پر مامورکیاگیاہے۔واضح ہوکہ حجاب کے تعلق سے کرناٹکا ہائی کورٹ کے احکامات پر عمل کرنے والے افسران من مانیاں کررہے ہیں اور ان احکامات کا غلط استعمال کرتے ہوئے طلباء سمیت اساتذہ کو پریشان کررہے ہیں۔ہائی کورٹ نے صرف سی ڈی سی والے مدارس میں حجاب نہ پہننے یا سی ڈی سی کے طئے شدہ ضوابط کے مطابق حجاب پہننے کیلئے موقع دیاہے ،مگر کئی تعلیمی اداروں میں حجاب کو فرقہ پرستی کی بنیاد بنا کر من مانیاں کی جارہی ہیں۔