دہلی:۔مسلمانوں کے خلاف اپنی زہر افشانی کیلئے بدنام یتی نرسمہا نند کے خلاف دہلی پولیس نے ایف آر درج کرنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے جس نے دہلی میں ہندو مہا پنچایت سے خطاب کرتے ہوئے ہندوؤں کو اس بات سے ڈرایا تھا کہ اگر ملک میں مسلمان وزیراعظم بن گیاتو۲۰؍ سال میں’’۵۰؍ فیصد ہندو اپنا مذہب تبدیل کرلیں گے۔‘‘اس کے ساتھ ہی ایسے کسی امکان کو ختم کرنےکیلئے اس نے ہندوؤں کو’’مرد بننے‘‘ اور ہتھیار اٹھانے کیلئے للکارا تھا۔ اس تعلق سے پتہ چلا ہے کہ پولس نے یتی نرسمہا نند کے خلاف بلااجازت ’ہندو مہا پنچایت‘ کرنے اور ہندوؤں کومسلمانوں کے قتل عام پر اکسانے اورہتھیار اٹھانے کیلئے للکارنے کے معاملے میں پیر کو ایف آئی آر درج کرلیا۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق دہلی میں ہندومہا پنچایت کے انعقاد کا معاملہ اتوار سے ہی سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہوا تھااور پولیس پر اس بات کیلئے شدید دباؤ تھا کہ وہ ضمانت پر رہائی پانے والے یتی نرسہمانند کے خلاف کارروائی کرے۔ پولیس نے ابتدائی طو رپر اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہاتھاکہ اس نے پروگرام کی اجازت نہیں دی ہے تاہم پروگرام کے مشمولات کے منظر عام پر آنے کے بعد اسے بالآخر ایف آئی آر درج کرنی پڑی۔ پولیس کے مطابق اس نے ہندو مہا پنچایت کیلئے اجازت نہیں دی تھی مگر منتظمین نے اس کے باوجود پروگرام کا انعقاد کیا جس میں ۷۰۰؍ سے ۸۰۰؍ افراد نے شرکت کی۔ دہلی کے براڑی علاقے میں منعقد ہونے والی ہندو مہا پنچایت کے سلسلے میں پولیس نے ۳؍ ایف آئی آر درج کی ہیں۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ فی الحال معاملے کو لیکر ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اورجانچ جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یتی نرسمہا نند ہو یا دہلی کے براڑی علاقہ میں ہندو مہا پنچایت منعقد کرنےوالاپریت سنگھ ہو، دونوں ہی عادی مجرم ہیں۔ نرسمہا نند ہری دوار کی دھرم سنسد میں اپنی ایسی ہی زہر افشانی کی وجہ سے جیل کی ہوا کھا چکا ہے جبکہ پریت سنگھ جو ’’سیو انڈیا‘‘ نامی تنظیم کا خود کو سربراہ بتاتاہے، جنتر منتر پر مسلمانوں کےخلاف ’جب ملے کاٹے جائیں گے، رام رام چلائینگے‘ کا نعرہ بلند کرنے کی وجہ سے گرفتار ہوچکاہے۔دونوں ہی ضمانت پر رہا ہیں اور دہلی کا زیر بحث پروگرام ان کی ضمانت کی شرائط کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ ایک طرف جہاں دہلی پولیس نے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرلی ہے وہیں اس نے ان لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کا اشارہ دیا ہے جو اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر آواز بلند کررہے ہیں۔ دہلی پولیس کے مطابق وہ اس سلسلے میں افواہ پھیلانے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اوراس کیلئے سوشل میڈیا کی بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ پولیس کے مطابق ان لوگوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جارہی ہے جو مختلف پلیٹ فارموں پر غلط معلومات یا افواہ پھیلارہے ہیں۔
