بنگلورو:۔ڈگری کالجوں میں کنڑا کی تعلیم کو لازم قرار دئیے جانے کے کرناٹکا حکومت کے فیصلے پر ہائی کورٹ نے لگائی ہے۔کرناٹکا حکومت کے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے سنسکرت بھارتی ٹرسٹ اور کچھ طلباء نے ایک عوامی مفادِ عامہ(پی آئی ایل) دائرکی تھی،جس کی شنوائی کرتے ہوئے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتوراج اوستھی کی قیادت والی بینچ نے ان احکامات پر روک لگائی ہے۔شنوائی کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت سے مزید مہلت طلب کی تھی ،اسی طرح سے معاملے کی شنوائی موسم گرماکے تعطیلات کے بعد کرنے کی درخواست کی تھی،اس پر طلباء کی جانب سے وکالت کررہے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ حکومت ہربار اس طرح سے وقت طلب کررہی ہے،اس سے طلباء کا مستقبل متاثرہورہاہے،اس وجہ سے طلباء کو اس بات کی سہولت دی جائے کہ وہ اپنی پسندکے مطابق لانگویج کااختیارکریں،اس کیلئے عدالت فوری طورپر راحت دے،اگر حکومت چاہے تو تعطیلات کے بعد اس معاملے کی شنوائی کرے۔وکلاء کی بحث سننے کے بعد عدالت نے کہاکہ مرکزی حکومت نے پہلے ہی اپنا موقف واضح کیاہے،نیشنل ایجوکیشن پالیسی میں طلباء کو اس بات کے اختیارات دئیے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی زبان میں تعلیم حاصل کرسکتے ہیں،ایسے میں کنڑا کو لازم قرار نہیں دیاجاسکتا۔ریاستی حکومت کی پالیسی مرکزی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہے،اس لئے فوری طورپر ان احکامات پر جائزہ لینے کیلئے حکومت کو مہلت دی گئی تھی،اس لئے مزید انتظارکے بغیر ہم اس معاملے پر روک لگائینگے۔
