دہلی:۔توہین رسالت کے خلا ف سوشیل میڈیا پر مہم چلانے والے معروف نوجوان صحافی محمدزبیر کودہلی پولیس نے نفرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔پچھلے دنوں نوپورشرما کے تعلق سے محمد زبیر نےسوشیل میڈیاپر زوردار مہم چلائی تھی،جس کی وجہ سے انٹرنیشنل سطح پر بھارت سرکارکے خلاف کئی ممالک نے اپنا احتجاج درج کیاتھا۔محمد زبیرنے توہین رسالت کی واردات انجام دینے والی نوپور شرمااور نوین جندال کو لیکر ایک مہم چلائی تھی ،جو کچھ ہی گھنٹوں میں دنیا کے مختلف مقامات پراحتجاج کی شکل اختیارکرگئی۔آج شام نئی دہلی میں محمد زبیرکو آئی پی سی کی دفع 153Aاور 295Aکے تحت گرفتار کرتے ہوئے میجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ہے اور مزید پوچھ تاچھ کیلئے پولیس کسٹڈی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔دہلی پولیس کی اسپشل سیل نے زبیر کو حراست میں لیاہے۔اس سلسلے میں آلٹ نیوزکے معاون مدیر پرتیک سنہانے بتایاکہ زبیرکو2020 کے ایک معاملے میں پوچھ تاچھ کیلئے بلایاگیاتھا،لیکن انہیں نئے معاملے میں گرفتارکیاگیاہے۔ان پردرج کی گئی ایف آئی آرکی کاپی دینے سے پولیس نے انکارکیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کی گرفتاری سے قبل جو قانونی نکات پر عمل کرنا تھا،اُس پر بھی عمل نہیں کیاگیاہے ۔ سوشیل میڈیامیں یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ زبیر نے پچھلے دنوں توہین رسالت کے تعلق سے جو مہم چلائی تھی اُسی کے پیشِ نظرانہیں کمزورکرنے کیلئے دہلی پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے مودی حکومت کی مخالفت کرنے والے صحافیوں کی بڑی تعدادکو مختلف معاملات میں گرفتارکیاجارہاہے ،حال ہی صحافی وسماجی کارکن تیستا سیلواڑ کو بھی مودی حکومت کی مخالفت کرنے پر گرفتارکیاگیاہےاور اس بات کی بھی دلیل ہے کہ بھارت میں اس وقت غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہوچکاہے۔جس ادارے کیلئےمحمد زبیر کام کررہے ہیں وہ آلٹ نیوز کہلاتاہے،آلٹ نیوزمیں جھوٹی خبروں کی حقیقت بتائی جاتی ہے اور سنگھ پریوارکے جھوٹے پروپیگنڈے کا پردہ فاش کیاجا تا ہے ۔اسی وجہ سے پچھلے کچھ دنوں سے مرکزی حکومت زبیرپر نشانہ بنائی ہوئی تھی۔
