میسورو:۔ریاست میں14 فروری کے بعد نئی تحریک کاآغاز ہونے جارہاہے،اُس دن میں اپنا استعفیٰ کانگریس پارٹی کو بطور "لولیٹر” دونگا،اب میرا منتر اہندا نہیں بلکہ النگاہے۔اس بات کااظہار ایم ایل سی و سابق مرکزی وزیر سی ایم ابراہیم نے کیاہے۔انہوں نے میسورومیں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ14 فروری کے بعد اقلیت،لنگایت،وکلیگا(النگا)کی تحریک کا آغاز ہونے جارہاہے۔ودھان پریشد کے اپوزیشن کے لیڈر کا عہدہ نہ ملنے سے ناراض سی ایم ابراہیم نے سابق وزیر اعلیٰ سدرامیا اور کانگریس پارٹی کے خلاف برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ النگا تحریک میں پسماندہ طبقات اور دلتوں کو بھی ساتھ میں لیاجائیگا،پنچم سالی مٹھ،ممتابنرجی ،تیجسوی یادواور اکھلیش یادو سمیت کئی لیڈران ہمارے رابطہ میں ہیں۔ویرپا موئیلی نے مجھے1995 میں راجیہ سبھا کی رکنیت حاصل کرنے میں روکاٹ کھڑی کی تھی،1996 میں نئی کرانتی کاآغازہوا،دوبارہ اُسی کرانتی کاآغازہونے جارہاہے،سال2023 میں کانگریس کی حالت خراب ہوگی اور میں کسی بھی حال میں کانگریس نہیں جائونگااور نہ ہی کسی کی تنقید کرونگا۔اب مسلم علماء ہی میرے رہبرہیں وہ حق کیلئے آواز بلند کررہے ہیں۔میرے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی وہی کرینگے۔مزیدانہوں نے کہاکہ بڑے پیمانے پر اجلاس کااہتمام ممبئی کرناٹکا میں کرناہے یا دوانگیرے میں کرناہے اس تعلق سے فیصلہ لیاجائیگا،اب میں کانگریس چھوڑ چکا ہوں،لیکن دلتوں و پسماندہ طبقات کو نہیں چھوڑونگا،یہ دونوں سماج ہمارے ساتھ میں ہیں،کانگریس ڈوبتی ہوئی کشتی ہے اور جلدہی وہ اپوزیشن میں بھی دکھائی نہیں دیگی۔ودھان پریشدکے اپوزیشن لیڈرکے عہدے کیلئے میرانام سفارش کیاگیاتھا،لیکن راتوں رات نام بدل دیاگیا۔22 افرادمیں سے19 افرادمیری تائید میں تھے،لیکن مجھے اہمیت نہیں دی گئی۔اے آئی سی سی کے جنرل سکریٹری وینوگوپال کو کرناٹک بھیجاگیاتھا،انہوں نے بھی میرےنام پر مہر لگائی تھی،لیکن راتوں رات میرا نام ہٹادیاگیاہے۔اس کی کیا وجہ ہے مجھے نہیں معلوم ہورہاہے،یا تو میرے پاس پیسے نہیں ہیں،یا پھر میں اقلیتی طبقے سے وابستہ ہونے پر اس عہدے سے دوررکھاگیاہے۔مزید انہوں نے کہاکہ آج سدرامیا جو کچھ ہیں وہ میری وجہ سے ہیں،اگر وہ دوبارہ چامنڈی اسمبلی حلقے سے مقابلے کیلئے جاتے تو یقیناًشکست کا سامنا کرناپڑتا،مگر میں نے اُنہیں بادامی سے الیکشن لڑواکر کامیاب بنوایاہے۔
