دہلی:۔ ملک بھر میں ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کے خلاف زیر التوا فوجداری مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کی درخواست کو قبول کرلیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں آج اس معاملے کی سماعت ملتوی کر دی گئی۔ اب اس معاملے کی سماعت 15 اپریل کو ہوگی۔ سپریم کورٹ نے گوہاٹی ہائی کورٹ کے رجسٹرار جنرل کی درخواست منظور کرلی ہے۔ ہائی کورٹ نے ایم پی/ایم ایل اے کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے والے جج کے تبادلے کی اجازت مانگی تھی۔ دراصل ایڈوکیٹ وجے ہنساریہ نے سپریم کورٹ میں 16ویں رپورٹ داخل کی تھی اور کہا تھا کہ دو سالوں میں ایم پی؍ایم ایل اے کے خلاف زیر التواء مقدمات کی تعداد 4122 سے بڑھ کر 4984 ہو گئی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ مجرمانہ شبیہہ والے افراد پارلیمنٹ اور ریاستی مقننہ میں نشستوں پر قابض ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے 4984 کیسز زیر التوا ہیں جن میں سے 1899 کیس 5 سال سے زیادہ پرانے ہیں۔ دسمبر 2018 تک زیر التواء مقدمات کی کل تعداد 4110 تھی اور اکتوبر 2020 تک 4859 تھی۔ 04.12.2018 کے بعد 2775 مقدمات کو نمٹانے کے بعد بھی ایم پی/ایم ایل اے کے خلاف کیسز 4122 سے بڑھ کر 4984 ہو گئے ہیں۔ایمیکس کیوری نے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کیا ہے کہ مرکزی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ اور ایم ایل ایز کے خلاف مقدمات کی تیز رفتار تحقیقات اور ٹرائل اور عدالتوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بارے میں کوئی جواب داخل نہیں کیا ہے۔ ایمیکس کے مطابق تمام عدالتوں میں انٹرنیٹ کی سہولت کے ذریعے عدالتی کارروائی کے لیے ضروری انفراسٹرکچر کا ہونا ضروری ہے۔امیکس نے مرکزی حکومت سے ہدایت مانگی ہے کہ وہ ورچوئل کے ذریعے عدالتوں کے کام کو آسانی سے چلانے کو یقینی بنانے کے لیے فنڈز فراہم کرے۔ ہائی کورٹ کو ہدایت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مطلوبہ رقم کے بارے میں قانون کے سکریٹری حکومت ہند کو تجویز پیش کرے۔ جسے مرکزی حکومت تجویز کے دو ہفتوں کے اندر دستیاب کرائے گی۔
