
شیموگہ:۔ٹھیکدار سنتوش کی خودکشی کو لیکر کرناٹکا کے ریاستی وزیر کے ایس ایشورپا کو موردِ الزام ٹھہرایاجارہاہے،خود خودکشی کرنے والے سنتوش نے اپنے آخری پیغام میں ایشورپاکا نام ظاہرکیا ہے۔لیکن ایشورپانے آج اس سلسلے میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ میرے استعفیٰ دینے کا کوئی سوال ہی نہیں اٹھتااو رمیں استعفیٰ نہیں دونگا۔انہوں نے شیموگہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ سنتوش پاٹل نے کسی بھی طرح کا دیتھ نوٹ نہیں لکھاہے اور نہ ہی رورل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کسی بھی طرح کے بدعنوانی میں ملوث ہے،اس وجہ سے میں استعفیٰ نہیں دونگا۔مزید انہوں نے کہاکہ سنتوش کون ہے میں اُسے جانتا بھی نہیں ہوں اور نہ ہی میں نے اس سے ملاقات کی ہے۔اطلاعات کے مطابق بی جے پی ہائی کمان نے خودایشورپا کو استعفیٰ دینے کی بات کہی ہے لیکن ایشورپا ہائی کمان کی گذارش کو بھی مسترد کرچکے ہیں۔دوسری جانب خودکشی کرنے والے سنتوش کے لواحقین نے کہاکہ جب تک سنتوش کی موت وجہ بننے والے ملزمان کو گرفتارنہیں کیاجاتااُس وقت تک سنتوش کی لاش کو موقعہ واردات سے باہر نہیں نکالاجائیگا۔سنتوش کے بھائی نے کہاکہ ایشورپااوران کے معاون بسوراج اور رمیش کو گرفتارکیاجاناچاہیےجب تک سنتوش کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کرنے نہیں دیاجائیگا۔دریں اثناء ایشورپا کو وزارت سے برطرف کرنے اور گرفتار کرنے کیلئے کانگریس،جے ڈی ایس اور ایس ڈی پی آئی نے مطالبہ کیاہے۔اسی طرح کرناٹک میں ریاستی وزیر کے ایس ایشورپاکے استعفےکو لیکر اپوزیشن جماعتیں مسلسل احتجاج کررہی ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کمیشن کیلئے ایک ٹھیکدار کوحراساں کیاتھا جس کی وجہ سے ٹھیکدار سنتوش نے خودکشی کرلی ہے۔آج شیموگہ شہرکے بی جے پی دفتر کا محاصرہ کرنے پہنچے کانگریس پارٹی کے کارکنوں اور بی جے پی کارکنان کے درمیان آمنا سامنا ہوا اور دونوں ہی جماعتوں کے کارکنوں نے ایک دوسرے پرحملےکرنے کی کوشش کی۔اس موقع پر تعینات کی گئی پولیس نے کارکنوں کو تحویل میں لیا۔ایشورپا اپنا استعفیٰ نہ دینے کیلئے بضد ہیں تو دوسری جانب منگلورومیں خودکشی کرنے والے سنتوش کے اہل خانہ اس بات پر اڑے ہوئے ہیں کہ جب تک ملزمان کو حراست میں نہیں لیاجاتا اس وقت تک لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔واضح ہوکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ایشورپاکو لیکر اپوزیشن جماعتیں بی جے پی کی مخالفت میں اتری ہوئی ہیں۔دریں اثناء کرناٹکا اسٹیٹ کنٹراکٹرس اسوسیشن نے دھمکی دی ہے کہ اگر ملزمان کوگرفتارنہیں کیاجاتاہے تو وہ ایک ماہ تک کسی بھی طرح کے ترقیاتی و تعمیری کاموں کو انجام نہیں دینگے۔
