ریاض:۔سعودی عرب حکومت نے نام نہاد مذہبی روا داری اور اغیار پرستی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے بتدریج بعض اہم تاریخی اور مذہبی شعائر کو مسخ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنالیا ہے ۔ اسی ناپاک منصوبہ کی کڑی میں مدینہ منورہ میں داخلے کے راستوں پرغیر مسلموں اور مسلمانوں کے لیے مختص راستوں پر مسافروں کی رہ نمائی کے لیے لگائے گئے بورڈز پر اصطلاحات کی تبدیلی شروع کردی ہے۔ جب کہ قرآن پاک نے پہلے ہی کہہ دیا ہے ، یہود و نصاری اور مشرکین اس وقت تک مسلمانوں سے راضی نہیں ہوسکتے ، جب تک اس کا مذہب اختیار نہ کرلیا جائے ۔اس ضمن میں پہلی تبدیلی غیر مسلم کی بجائے حدود حرم کی شکل میں سامنے آئی ہے۔مدینہ منورہ میں مسجد نبوی سے کچھ فاصلے پر سڑکوں پر بڑے بڑے سائن بورڈ دیکھنے کو ملتے ہیں۔ وہاں سے دو راستے الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ ایک حرم مدنی میں داخل ہوتا ہے جس پر صرف مسلمانوں کے لیے‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جب کہ دوسرا راستہ غیر مسلموں کے لیے مختص ہے۔مجاز اداروں کی طرف سے مدینہ منورہ میں داخل ہونے والے زائرین کی رہنمائی کے لیے لگائے گئے گائیڈ بورڈز پر غیر مسلم کی جگہ حدودِ حرم کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ ماضی میں یہ عبارت مدینہ منورہ کے تقدس کے پیش نظر اس لیے اپنائی گئی تھی کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ حرم مکی کی طرح حرم مدنی میں بھی غیر مسلم کا داخلہ ممنوع ہے۔اسی طرح گائیڈز بورڈز کے لیے ماضی پرانے رسم الخط میں لکھے بورڈز بھی نئے اور عام فہم رسم الخط میں تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ مسافر آسانی کے ساتھ انہیں سمجھ سکیں
