سنتوش پاٹل کیس کے اہم ملزم ایشورپا کی گرفتارکیاجائے:این ایس آئی 

ڈ سٹرکٹ نیوز
شیموگہ: ٹھیکیدار سنتوش پاٹل کی خودکشی کے معاملے میں 40 فیصد کمیشن کے الزام میں ملوث A-1ملزم سابق وزیر کے ایس ایشورپا کو گرفتارکرنے کے بجائے انہیں پولیس اسکارٹ کی سکیورٹی دینا قابل مذمت ہے۔ ایشورپاکو سیکورٹی دینے کے بجائے انہیں فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے این ایس یو آئی کی جانب سے بسویشورا سرکل میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔مظاہرین نے کہا کہ ٹھیکیدار سنتوش پاٹل جس نے کے ایس ایشورپاسے اپنے کئے گئے تعمیری کاموں کا بل پاس کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس کیلئے ایشورپا نے 40 فیصد کمیشن مانگا تھا۔ سنتوش نے کہا تھا کہ اگر وہ بل پاس نہیں ہوا تو وہ خود کشی کرلےگا۔سنتوش پاٹل نے اپنی حالت وزیر اعلیٰ ، وزیر اعظم کوخط لکھا کر بھی ظاہر کی تھی۔اس موڑ پربھی حکومت نے بیداری سے کام نہیں لیااور سنتوش پاٹل کوخودکشی کے راستے پر چل پڑنے پر مجبور کردیا۔ اُڈپی کے ایک لاڈج میں خودکشی کرنے سے پہلے سنتوش پاٹل نےسوشل میڈیاپرایک پیغام چھوڑا جس میں اس نے براہ راست کہا ہے کہ” میں میری موت کے براہ راست ذمہ دار کے ایس ایشورپا ہیںانہیں سزا ملنی چاہئے۔ میرے خاندان کی مدد اور انصاف کیلئے وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اور سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کو آگے آنے کیلئے درخواست بھی کی تھی۔ ڈیتھ نوٹ لکھنے کے بعد اس نے خودکشی کر لی ۔ اس معاملے میں صرف شرمندگی کے خوف سےایشورپا سے استعفیٰ لینا کافی نہیں بلکہ ایشورپا کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 306۔ 34 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی لیکن پھر بھی بی جے پی حکومت انکا تحفظ کررہی ہے اورانہیں ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ہے کہتے ہوئے ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔بی جے پی حکومت ویسے تو ڈنکے کی چوٹ پرکہتی ہے کہ سبھی کیلئے قانون ایک ہی ہے ، لیکن راشٹر بھکت پارٹی قائد ایشورپا کو گرفتار کرنے کے بجائے بی جے پی حکومت ایک بدعنوان اور خودکشی کیلئے اُکسانے والے ملزم کو اسکارٹ دیکر تحفظ کررہی ہے یہ کہاں تک درست ہے؟۔ فوری طور پر سنتوش پاٹل کی خود کے ملزم ایشورپا کو گرفتار کرنے پر دبائو ڈالاگیا۔ اس موقع پراین ایس یوآئی کے ضلعی صدر وجئے، سٹی صدر چرن،دیہی صدر ہرشیت گوڑا، اقلیتی کانگریس کے صدرمحمد نہال،یوتھ کانگریس کے ریاستی جنرل چیتن، اکبر، عمران، گریش، گوتم،شامل تھے۔