لکھنؤ :۔مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ اگر کورونا اور یوکرین روس جنگ نہ ہوتی تو ہماری معیشت کا حجم 4.3 ٹریلین ڈالر ہوتا۔ بھارت کی طرح امریکہ اور چین میں بھی مہنگائی کا بحران ہے۔ معیشت کورونا سے متاثر ہوئی ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے ہماری کورونا مینجمنٹ کی تعریف کی ہے۔ ملک سے برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی تجارت بڑھ رہی ہے۔ آر بی آئی نے مہنگائی کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ وزیر دفاع ہفتہ کو لکھنؤ انٹلک چوئل فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام راج ناتھ سنگھ نمستے لکھنؤ میں خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ 2014 سے دنیا میں ہندوستان کے وقار اور شبیہ میں اضافہ ہوا ہے۔ راج ناتھ سنگھ کے مطابق قیادت موثر ہو تو ترقی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ دفاعی صلاحیت اور معیشت کسی ملک کی طاقت کا تعین کرتی ہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ خطہ پوری طرح ترقی کر چکا ہے لیکن جو کچھ ممکن تھا وہ ہماری سرکار کی طرف سے ہوا۔راجناتھ سنگھ نے کہا کہ لکھنؤ کے 6 فلائی اوور مکمل ہو چکے ہیں۔ مزید 5 فلائی اوورز کی منظوری دی گئی ہے۔ ریلوے اسٹیشن کو بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ گومتی نگر ریلوے اسٹیشن عالمی معیار کا بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست کے عوام مطمئن نہ ہوتے تو اتنی اکثریت سے حکومت بنانا ممکن نہ ہوتا۔وزیر دفاع نے کہا کہ مودی حکومت میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ نظام میں تبدیلی لا کر بدعنوانی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ جی ایس ٹی کی وصولی کے حوالے سے کرشمہ نظر آیاہے۔ اپریل میں ایک لاکھ 60 ہزار کروڑ کا جی ایس ٹی کلیشن ہوا ہے۔ حکومت کرپشن کو روکنے میں کامیاب رہی ہے۔ کاروبار کے لیے اب ریڈ ٹیپ کی بجائے ریڈ کارپٹ دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ چین بھارت کے موقف سے اپنی طاقت کا اندازہ لگا چکا ہے۔ بھارت نتائج کی فکر نہیں کرے گا، لیکن عزت نفس پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں جاسکتا۔ ہم سیکورٹی کے نظام میں دوسرے ممالک پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔
