اب سے6بجے دی جائیگی فجر کی اذان:امیر شریعت

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔ریاست بھرمیں اذان کو لیکر شرپسندوں کی جانب سے جو تنازعات کھڑےکئے جارہے ہیں،ان تنازعات کولیکر آج بنگلورومیں ایک اہم نشست کا اہتمام کیاگیاتھا جس میں اس بات کافیصلہ لیاگیاہے کہ ریاست بھرمیں فجرکی اذان ٹھیک6 بجے دی جائیگی،اس سے پہلے یہ اذان پانچ بجے سے عموماً دی جاتی رہی ہے۔آج منعقدہ نشست میں مختلف علماء اورملّی قائدین کی نشست کی صدارت امیرِ شریعت مولانا صغیر احمدرشادی نے انجام دی۔اس دوران اس بات کافیصلہ کیاگیاکہ صبح پانچ بجے دی جانے والی اذان کے اوقات کوبدل کر 6 بجے کئے جائینگے۔نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئےکہاکہ ہم بھارت کے قانون کی پاسداری کرنے والوں میں سے ہیں،اسی وجہ سے سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق صبح6 بجے سے اذان دی جائیگی۔واضح ہوکہ اس سے پہلے امیرِ شریعت پر مائک پراذان نہ دینے کا فیصلہ کیاتھا اور اس بات کی ہدایت دی تھی کہ اگر توہین رسالت ہوتی ہے ،یا شرپسندوں کی شرارت عروج پر ہوتی ہے تب بھی مسلمان صبر کادامن تھامے رکھیں۔امیرِ شریعت ودیگر علماء کی جانب سے لئے گئے اس فیصلے کے تعلق سے سوشیل میڈیا میں خبر آتے ہی عام لوگوں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے اور یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ کیاآخر نام نہاد لوگ شریعت کا کیوں مذاق اڑارہے ہیں۔فجرکی اذان فجرکے موقع پر دی جاتی ہے نہ کہ فجر کے آخری وقت میں اذان دینے کا کوئی مطلب ہے۔بعض لوگوں نےتو سوشیل میڈیا پر اس بات کا بھی تبصرہ کیاہے کہ شائد علماء یکساں سیول کوڈکی جانب اپنے قدم بڑھارہے ہیں،اس لئے حکومت کے ہر فیصلے پرحامی بھررہے ہیں۔