نجی اسکولوں میں کتاب، یونیفارم کے نام پر ہورہی ہے تجارت!

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:رواں تعلیمی سال کی شروعات کے ساتھ ہی نجی اسکولوں میں یونیفارم، درسی کتاب، نوٹ بک اور دیگر مواد کا کاروبار گرم ہوچکا ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں تمام تعلیمی ادارے تعلیمی سال کے دوران طلباء کی تعلیمی سرگرمیوں کو اہمیت دیے بغیر اسکولوں میں یونیفارم، نصابی کتاب، نوٹ بک، جوتے، بیگ اور دیگر سامان کا کاروبار کررہے ہیں۔ تعلیمی مواد کا کاروبار صرف اسکولوں تک محدود ہونے کے باوجود طلباء کو زیادہ قیمتوں میں یا ایم آر پی پرفروخت کی جاتی ہے۔اگر اس مواد کو اسکولوں میں خریدنے سے انکار کیا جاتا ہے تو ایسے طلباء کو داخلہ دینے سے انکار کیا جارہا ہے۔اگرداخلہ مل بھی جاتا ہے تو انہیں حراساں کیا جاتا ہے۔ یہ تمام باتیں محکمہ تعلیم کے سی آر پی ،ای سی او حکام کو معلوم ہونےکے باوجود انجان بنے بیٹھے ہیں۔ پرائیویٹ اسکولوں میں ڈونیشن فیس اور پھر یونیفارم اور کتابوں کی تجارت پر ڈاکہ ڈالنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔عام طور پرمحکمہ تعلیم کو جب اسطرح کی شکایت کی جاتی ہے تو محکمہ کے حکام محض ایک پریس کانفرنس کرتے ہیں اورہماری ذمہ داری یہاں ختم ہوچکی ہےایسا سمجھ لیتے ہیں۔لیکن ایک پریس کانفرنس سے کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے۔ محکمہ کے عہدیداران کو چاہئے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور حکام کو سخت ہدایت کے ساتھ اسکولوں کا معائنہ کرتے ہوئے اسطرح کے کاروبار کو ہمیشہ کیلئےبند کروانے کی پہل کرنی چاہئے۔