سب جوش کی باتیں ہیں

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر
از:۔مدثراحمد،شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کوروناکے دوران جب میڈیامیں مسلمانوں کے خلاف زہر اُگلا جارہاتھا تو سوشیل میڈیا پر زبردست بحث جاری تھی کہ میڈیا مسلمانوں کے خلاف کام کررہاہے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ اُنہیں اپنا میڈیا ہائوز بنانے کیلئے آگے آناہوگا۔جب بھی بھارت میں فسادات ہوتے ہیں تو میڈیامیں ایکطرفہ خبریں پیش کی جاتی ہیں اور پوری کوشش ہوتی ہے کہ مسلمانوں کو بدنام کیاجائے،اس کیلئے میڈیاپوری طرح سے کمربستہ ہوجاتاہے،جب کسی اسپتال میں مسلمانوں کے ساتھ تعصب کیاجاتاہے تو مسلمان اس فیصلے پر آجاتے ہیں کہ کسی بھی حال میں مسلمانوں کا اپنا اسپتال قائم کیاجائے،اس کیلئے بحث ومباحثے ہوتے ہیں،میٹنگس ہوتی ہیں یہاں تک کہ سوسائٹی یا ٹرسٹ بھی بن جاتی ہے۔جب مسلمانوں کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں داخلے لینے سے انکارکیاجاتاہےیاپھر اُنہیں ٹوپی،برقعہ،حجاب،نماز وروزوں پر عمل کرنے سے روکاجاتاہے تو مسلمان تلملااُٹھتے ہیں اور سوشیل میڈیا پر آڈیو ویڈیو جاری کرتے ہوئے للکارتے ہیں کہ مسلمان ان تعلیمی اداروں کابائیکاٹ کرینگے،اپنے تعلیمی اداروں کاآغاز کرینگے اور ہر حال میں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو فروغ دینگے۔یقین مانئے کے مسلمانوں کے یہ سب دعوے ،اعلانات اور بحث صدفیصد جوش پر مبنی ہیں،سب جوش کی باتیں ہیں لیکن ان میں ذرابرابر بھی عمل کا جذبہ نہیں ہے۔میڈیامیں ایک دو مسلم موافق خبریں دکھائی جاتی ہیں تو میڈیا ہائوز بنانے کا جذبہ ٹھنڈا ہوجاتاہے اور اِ نہیں مسلم میڈیا ہائوز کاتصور فضول دکھتاہے۔اسی طرح سے اسپتالوں میں سو دوسو روپیوں کی رعایت پانے کی بعد مسلم انتظامیائی اسپتالوں میں علاج کروانا مکروہ ہوجاتاہے اور ظلم تو یہ ہے کہ اپنے ہی اداروں کو بدنام کرنے کیلئے کوئی کسرنہیں چھوڑی جاتی۔میڈیامیں سودفعہ مسلمانوں کو بُراکہہ کر ایک بار اچھاکہنے سے گودی میڈیابھی اچھالگنے لگتاہے،وہیں مسلمانوں کے اپنے نیوز پورٹل ،اخبارات اور یوٹیوب چینلس میں سو بھلائیاں بتاکر ایک تنقید کی جاتی ہے تو مسلمانوں کو ہضم نہیں ہوتا۔اسی طرح سے غیر مسلم تعلیمی اداروں میں مسلم بچیوں کو بے حجاب کیاجاتاہے،پھر سال کے شروعات میں ہزار دو ہزارروپئے کی رعایت فیس میں دی جاتی ہے تو مسلمانوں کیلئے حجاب غیر ضروری بن جاتاہے۔اس سلسلے میں بعض والدین کی سوچ یہ ہے کہ حجاب کو لیکر ہم کیوں پریشان ہوجائیں،بچیوں کو پہلے پڑھنے دیں،پھر شادی ہوکر وہ خودہی حجاب پہن لینگی۔اب تو ہمیں غیروں کے تعلیمی اداروں میں خوب رعایت مل رہی ہے،اس رعایت کا فائدہ اٹھائینگے۔جب تک ایسی سوچ کے لوگ سماج میں رہینگے اُس وقت تک مسلمان یہ سوچ کر آگے نہ بڑھیں کہ قوم ہمارے پیچھے ہے،یقیناً جو لوگ خود اپنی قوم کو آگے بڑھنا نہیں چاہتے وہ پیچھے سے چھُرا ہی گھونپیں گے یا پھر میر صادق و میر جعفرکی طرح اپنے آپ کو پیش کرینگے ۔افسوسناک پہلو یہ بھی ہےکہ تعلیمی اداروں میں داخلوں کے تعلق سے کل تک جو لوگ مسجدوں کے منبروں پر کھڑے ہوکر خطبے دے رہے تھے،حجاب ہمارا حق ہے کہ نعرے لگا رہے تھے،حجاب کے تعلق سے سڑکوں پر اُتر رہے تھے وہ لوگ بھی آج حجاب کو عذاب سمجھ کر غیروں کے یہاں ہی اپنی بچیوں کو ڈھکیل رہے ہیں۔کیا خطبے،کیا نعرے اور کیاتحریک و تحریریں وہ سب جوش کے لمحوں میں پیش کئے گئے تھے۔افسوسناک بات یہ بھی ہے کہ حجاب ہمارا حق ہے کا نعرہ لیکر کئی تنظیمیں احتجاجات کرتے ہوئے مسلم طالبات کے حق میں آواز اٹھارہے تھے،وہ لوگ اُس وقت ان بچیوں کے رہبر کے طور پر سامنے آرہے تھے،بچیوں کے گھروں کو جاکر اُنہیں کلاس بائیکاٹ کرنے،امتحان نہ لکھنے اور حکومت کے خلاف محاذ آراء ہونے کیلئے ذہن سازی کررہے تھے،آج وہ تنظیمیں کہاں چلی گئی ہیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہورہاہے۔واقعی میں مسلمان جوش میں ہی زندہ باد رہتے ہیں ،بعدمیں ان کے مردے آباد ہوجاتے ہیں۔