راجیہ سبھا انتخابات:4 /نشستوں کیلئے 6/ امیدوار; بی جے پی ،کانگریس اور جے ڈی ایس کیلئے عزت کا سوال

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔راجیہ سبھاکی چار نشستوں کیلئے چھ امیدوار میدان میں اُترے ہیں،10 جون کو ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات کیلئے نامزد پرچہ واپس لینے کی آج آخری تاریخ تھی لیکن کوئی بھی امیدوار نامزدگی کاپرچہ واپس نہیں لیاہے،جس کی وجہ سے انتخابات ہونا طئے ہے۔زیر اقتداربی جے پی سےمرکزی وزیر نرملا سیتا رامن،سابق رکن اسمبلی جگیش اور لہر سنگھ سوریا،کانگریس پارٹی سے سابق مرکزی وزیر جئے رام رمیش اور منصورعلی خان جبکہ جے ڈی ایس سے سابق رکن پارلیمان کوپیندرا ریڈی میدان میں ہیں۔ودھان سبھامیں بی جے پی کے119 اراکین ہیں،ساتھ میں اسپیکر اور بی ایس پی کے رکن اسمبلی مہیش اور آزادامیدوار ناگیش کے تعائون سے122 نشستیں ہیں،جبکہ اپوزیشن کانگریس کے پاس69 اراکین اور ہوسکوٹے اسمبلی حلقے کے آزادامیدوار شرت بچے گوڈا کے تعائون سے70 نشستیں ہیں اورجے ڈی ایس کے پاس32 نشستیں موجود ہیں ۔ راجیہ سبھا انتخابات میں کامیابی کیلئے ہر امیدوارکو کم از کم45 ووٹ درکار ہونگے ۔ ودھان سبھا میں اعداد کاجائزہ لیاجائے تو بی جے پی کے دو اور کانگریس کے ایک امیدوار کا جیتنا طئے ہے جبکہ جے ڈی ایس کے پاس درکار ووٹران موجودنہ ہونے کے باوجود اپنےامیدوارکو میدان میں اتاراہے،جس سے سیاسی تذبذب برقرار ہے ۔ چوتھے امیدوارکی کامیابی کیلئے شدید جدوجہد چل رہی ہے،بی جے پی سے نرملا سیتا رامن اور جگیش کا کامیاب ہوناطئے ہے،جبکہ کانگریس پارٹی سے جئے رام رمیش کی کامیابی یقینی ہے۔چوتھے مقام کیلئے بی جے پی کے لہر سنگھ،کانگریس کے منصورعلی خان اور جے ڈی ایس کے امیدوار کوپیندرا ریڈی کے درمیان سخت مقابلہ جاری ہے۔راجیہ سبھا انتخابات میں بیالٹ پیپر کے ذریعے سےووٹنگ ہوتی ہے اور اراکین جس طرح امیدوار ووٹ دیتےہیں وہ اُس پارٹی کے پولنگ ایجنٹ دکھاکر ووٹ دیتے ہیں،اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ کس نے کسے ووٹ دیاہے۔کانگریس پارٹی نےراجیہ سبھا انتخابات کے مدِنظر اپنی پارٹی کے اراکین کو وہپ جاری کرتے ہوئے یہ واضح کیاہے کہ وہ اپنی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کیلئے پابند رہیں،9جون کی شام چھ بجے اس تعلق سے نجی ہوٹل میں نشست بھی بلائی گئی ہے۔آج الیکشن آفیسر ایم کے وشالکشمی نے بتایا کہ چار نشستوں کیلئے ہونے والے انتخابات کیلئے درج کردہ پرچوں کو واپس لینے کی آج آخری تاریخ تھی،مگر کسی بھی امیدوارنے اپنا پرچہ واپس نہیں لیاہے۔چار نشستوں کیلئے چھ امیدوار میدان میں ہیں۔10 جون کی صبح 9 بجے سے شام 4 بجے تک ووٹنگ ہوگی اور اسی دن پانچ بجے ووٹوں کی گنتی ہوگی اور فوری طورپر نتائج کا اعلان کیاجائیگا۔راجیہ سبھاانتخابات کے ووٹوں کی گنتی کیلئے علیحدہ ضوابط ہیں،ہر نشست کی کامیابی کیلئے کم ازکم45 ووٹوں کی ضرورت ہوگی،پہلے مرحلے میں پہلی ترجیح ہی ووٹ کی گنتی ہوگی،اس میں منظورہونے والے ووٹوں کوبنیاد بناکر امیدوارکی کامیابی کا کوٹہ طئے ہوگا۔چار نشستوں میں سے تین نشستوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد چوتھی نشست کیلئے کائونٹنگ کی جائیگی جس میں اول اور دوم ترجیح ہی ووٹوں کی گنتی ہوگی۔فی الوقت یہ طئے کرن مشکل ہے کہ کون کیسے جیتے گامگر ووٹوں کی گنتی کے بعدہی یہ نتائج واضح ہونگے ۔ ودھان  سبھا میں 225 نشستوں میں سے بی جے پی کے پاس 119،جے ڈی ایس کے پاس32 ، کانگریس کے پاس69،دو آزاد امیدوار اراکین اسمبلی،ایک بی ایس پی اور ایک اسپیکر کاووٹ ہوتا ہے جبکہ ایک رکن نامزدشدہ ہوتاہے۔نامزدشدہ رکن اسمبلی کو راجیہ سبھا انتخابات میں ووٹ دینے کا حق نہیں ہوتا۔