دہلی:۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے دارالحکومت میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوبھال سے ملاقات کے دوران پیغمبر اسلام کی توہین کا معاملہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ باہمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بعد ازاں ایک بیان میں کہا کہ اس معاملہ میں ہندوستان نے مناسب کارروائی کا یقین دلایا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی قومی سلامتی مشیر اجیت ڈو بھال سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔ ایرانی وزیر نے کہا کہ ہندوستان کی طرف اجیت ڈو بھال نے پیغمبر اسلام ؐکے احترام کا یقین دلایا ہے کہ غلط کام کرنے والوں کے ساتھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مثالی انداز میں نمٹا جائے گا۔ ایران مطمئن ہے کہ ہندوستانی حکومت نے پیغمبر اسلامؐ کے بارے میں تبصروں کے ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی ہے۔ امیر عبداللہ نے اس کے بعد ہندوستانی عوام اور حکام کی طرف سے الہامی مذاہب اور ان کے مقدسات، خاص طور پر پیغمبر اسلام محمد کے تئیں دکھائے گئے احترام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان مذہبی رواداری، پرامن بقائے باہمی اور تاریخی دوستی مثالی ہے۔ انہوں نے ہندوستان کی طرف سے کی گئی کارروائی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی حساسیت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اجیت ڈو بھال کے حوالے سے کہا گیا کہ وہ اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہندوستانی حکومت اور اہلکار پیغمبر اسلام ؐکا احترام کرتے ہیں۔ عبداللہیان نے جو گزشتہ سال اپنی تقرری کے بعد ہندوستان کے پہلے دورے پر ہیں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال سے ملاقات کی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی، جہاں دونوں فریقوں نے باہمی معاہدے پر دستخط کئے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ہندوستان اور ایران کے درمیان دیرینہ تہذیبی اور ثقافتی روابط کو یاد کیا۔ ایک سرکاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم مودی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا استقبال کرنے کے منتظر ہیں۔
