دہلی:۔ قطب مینار کیس میں نیا موڑ آیا ہے۔ مہندر دھوجا پرساد سنگھ نے عرضی دی ہے کہ وہ آگرہ صوبے کے حکمراں تھے، ان کی حکومت جمنا سے گنگا تک تھی۔انہوں نے قطب مینار سمیت جنوبی دہلی میں حکومت کی، کیونکہ حکومت ہند اور ریاست آگرہ کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں تھا، اس لیے ان کے پاس اس زمین پر ملکیتی حقوق ہیں جس پر قطب مینار واقع ہے۔ اس درخواست پر تمام فریقوں سے جواب داخل کرنے کو کہا گیا ہے، اب اس درخواست پر سماعت 24 اگست کو ہوگی۔خیال رہے کہ قطب مینار کیس کا فیصلہ آج نہیں آئے گا۔یہ معلومات محکمہ آثار قدیمہ کے وکیل کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ عدالت میں نئی درخواست دائر کر دی گئی ہے جس کی سماعت کے بعد فیصلہ متوقع ہے۔قبل ازیں قطب مینار کیس میں ساکیت عدالت نے ہندو فریق کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ساکیت عدالت فیصلہ کرے گی کہ قطب مینار کمپلیکس کے اندر ہندو اور جین دیوتاؤں کی بحالی اور پوجا کا حق دیا جانا چاہیے یا نہیں۔قبل ازیں سول جج نے درخواست خارج کر دی تھی جس کے فیصلے کو ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ تاریخی روایات کے مطابق مسجدقوت اسلام ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں خاندان غلامان کے دورکی ایک عظیم یادگارہے جس کا مأذنہ ’ قطب مینار‘ عالمی شہرت یافتہ ہے۔ یہ قطب الدین ایبک کے دور کی تعمیرات میں سب سے اعلیٰ مقام رکھتی ہے۔یہ ہندوستان کی فتح کے بعد دہلی میں تعمیر کی جانے والی پہلی عظیم مسجد تھی۔مسجد قوت الاسلام کی تعمیر میں پرانی عمارتوں کا ملبہ استعمال کیا گیا تھا۔ اس کی تعمیر کا آغاز 1190 کی دہائی میں ہوا۔اس کی تعمیر کا مقصد صرف ایک مسجد کی تعمیر نہیں تھا بلکہ اس سرزمین پر اسلام کی شوکت کا اظہار بھی تھا۔ قطب مینار کی تعمیر کا آغاز 1199 میں ہوا تھا۔مسجدقوت الاسلام اور قطب مینار پر خط کوفی میں خطاطی کے بہترین نمونے موجود ہیں جن کی کاریگری کو دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
