شکاری پور:۔ گلشن زبیدہ شکاری پور میں ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی کی صدارت میں استقبال رمضان کا شاندار جلسہ منعقد کیاگیا۔ اس جلسے میں گلشن زبیدہ کے نائب انیس الرّحمن، ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی، مولانا محمد اظہر الدّین ندوی، ایچ، کے فاؤنڈیشن کے صدر فیاض احمد ،انجینئرمحمد شعیب، نذراللہ مڈی، میر معلم عبدالعزیز، ماسٹر محمد سہیل، کنڑا ریاستی صحافتی تنظیم کے علاقائی صدر ہچرایپّا، شیخ مدثر، سید ابوطلحہ کے علاوہ گلشن زبیدہ کے مختلف تعلیمی شعبوں کے اساتذہ اور طلبا و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اس جلسے میں شرکت کرنے والے مہمانوں، اساتذہ، اور طلبا کا مولانا محمد اظہر الدّین ندوی نے استقبال کیا اور بچوں سے کہا کہ رمضان المبارک کے مہینے کا احترام کریں اور روزوںکا اہتمام کریں، نیز تلاوت کلام پاک کو اپنا شعار بنائیں۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے ایک گھنٹے کے خطاب میں بہت ساری دلکش اور دل کو لگنے والی باتیں کہیں۔ چوں کہ وہ بچوں کی نفسیات کے ماہرہیں، اس لیے انہوں نے بچوں کی پوری توجہ مبذول کرلی۔انہوں نے کہا کہ بچو! میں جانتا ہوں کہ آپ ہی لوگ سب سے زیادہ ذوق و شوق اور امنگ کے ساتھ روزے رکھتے ہیں، اگر روزہ داروں کا تناسب نکالا جائے تو مجھے یقین ہے کہ بڑوں کی بہ نسبت بچوں کی تعداد زیادہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بچے ماہ رمضان کے ہر لمحے کا لطف لیتے ہیں، افطار کے وقت ان کی خوشی اور خوشدلی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے وہ بغیر تھکے بغیر مرجھائے افطار کی تیاری کرتے ہیں۔ سحری کے وقت بھی بہت سارے ایسے بچے ہیں جو ابو امی کے اٹھانے سے پہلے جاگ جاتے ہیں۔ اور گھر کے کاموں میںامی کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بچو! ہم جانتے ہیں افطار و سحری کی تیاری میں آپ کا بہت اہم رول ہوتا ہے۔ اور آپ تھوڑا سا کھا پی کر اس طرح سیر ہوجاتے ہیں گویا اللہ نے صبر و شکرکی دولت سے آپ کو نوازا ہے۔حافظؔ کرناٹکی نے بچوں کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ بازاروں کی چیزوں سے دور رہیں۔ چاکلیٹ، ٹافی اور کیک کے پیسے بچا کر ضرورت مندوں کی امداد کریں۔ اس سے آپ کے اندر سخاوت کی خو پیدا ہوگی۔ اگر کسی وجہ سے روزہ نہ رکھ پائیں تو کھلم کھلا کھانے سے پرہیز کریں جن بچوں اور بچیوں کو قرآن مجید پڑھنا آتا ہے وہ کثرت سے تلاوت کریں جو ابھی ٹھیک سے پڑھنا نہیں جانتے ہیں وہ سیکھ لیں۔ روزہ صرف کھانے پینے سے ہی نہیں روکتا ہے یہ دنیا کی ہر برائی سے روکتا ہے۔ ایک مہینے کی اس عملی تربیت سے زندگی میں انقلابی تبدیلی آجاتی ہے۔ روح میں بالیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایمان اور ایقان میں مضبوطی پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم سبھی اللہ کے بخشے اس انعام کی قدر کریں۔ اور بدلے میں اس سے بھی بڑے تحفے کے قابل بن جائیں۔میرا خیال ہے کہ اگر ہر تعلیمی ادارہ میں استقبالِ رمضان کے موقع سے خصوصی جلسہ کا اہتمام کرکے بچوں کو رمضان کی برکتوں سے واقف کرایا جائے گا تو بہت ہی خوش گوار ماحول بنے گا۔اور بچے ایمان و ایقان کی دولت سے مالا مال ہونگے۔ڈاکٹر آفاق عالم صدیقی نے کہا کہ جب ہمارے یہاں کوئی مہمان آتے ہیں تو ہم ان کے استقبال کے لیے گھروں کی صفائی کرتے ہیں۔ ممکن ہوا تو استقبالیہ نظمیں پڑھتے ہیں، اسی طرح رمضان سال میں ایک بار آتا ہے۔ اس کا استقبال صرف گھروں کی صفائی کے ذریعے نہیں ذہن و دل کی صفائی کے ساتھ کیجئے۔ اورتلاوت کلام پاک کو تہنیت رمضان کے طور پر پورے مہینے نہایت ہی اہتمام اور ذوق و شوق سے پڑھیے۔ آفاق عالم صدیقی نے یہ بھی کہا کہ ایک بار اندھیرے نے خدا سے شکایت کی کہ سورج میرا دشمن ہے وہ میرے پیچھے پڑا رہتا ہے، مجھے کہیں بھی ٹکنے نہیں دیتا ہے۔ اللہ نے سورج کو بلایا اور اندھیرے کی شکایت اس کے سامنے رکھی۔ سورج نے حیران ہو کر کہایا اللہ! میں نے تو آج تک اندھیرا دیکھا ہی نہیں ہے، میں اسے جانتا بھی نہیں ہوں، تو میں بھلا اس سے دشمنی کیسے کرسکتاہوں۔ صدیقی نے کہاآپ یاد رکھیے کہ شکایت صرف اندھیرا کرتا ہے روشنی نہیں کرتی ہے۔ نیکی نہیں کرتی ہے، برائیاں بہانے بناتی ہیں۔ نیکیاں نہیں۔ آپ بھی بہانے بنا کر روزوں سے بچنے کی کوشش نہ کریں۔ جہاں سورج ہوتا ہے وہاں اندھیرا نہیں ہوتا ہے۔ جہاں نیکیاں ہوتی ہیں وہاں برائیاں نہیں ہوتی ہیں۔سورج کو پتہ ہی نہیں ہوتا ہے کہ اندھیرا کیا ہوتا ہے۔ اسی طرح نیکیوں کو اللہ کے سچے نیک بندوں کو برائیوں کا پتہ نہیں ہوتا ہے۔ اس کے ذہن و دل میں اس کاخیال بھی نہیں آتا ہے۔ رمضان بھی نیکیوں کا مہینہ ہے اس لیے آپ اس میں اس طرح ڈوب جائیں کہ برائی کا خیال تک ذہن میں نہ آئے۔فیاض احمد نے کہا کہ ماہ رمضان مبارک مہینہ ہے۔ ہم سبھوں کو چاہیے کہ ہم اس مہینے کی برکتوں سے فیض حاصل کریں اور خوب خوب نیکیاں کمائیں۔ہچرایپّا نے کہاکہ رمضان اتحاد کا بھی سبق دیتا ہے۔اس مہینے کی برکت ہے کہ امیر غریب، راجا رعیت سب ایک طرح سے بھوک اور پیاس اپنے رب کے لیے برداشت کرتے ہیں۔ اس طرح چھوٹے بڑے کا بھید بھاؤ مٹ جاتا ہے۔عبدالعزیز نے کہا کہ رمضان مقدس کا احترام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اہتمام سے روزے رکھیں، اس کے سارے واجبات کی ادائیگی خوش دلی سے کریں۔انیس الرّحمن نے کہا کہ رمضان نہ صرف یہ کہ نیکیوں کا مہینہ ہے بلکہ یہ اپنے آپ کو بدلنے اور نئے عزم کے ساتھ اسلامی شعار کے مطابق زندگی گذارنے کا مہینہ ہے۔ یہ مہینہ ہماری زندگی میں انقلابی تبدیلی کا پیغام لیکر آتا ہے۔ اورہم ایک بار پھر سے تجدید ایمان وایقان کے خوشگوار مرحلے سے گذرتے ہیں۔ اور اپنے رب سے لو لگانے والے بن جاتے ہیں۔انجینئر محمد شعیب نے کہا کہ رمضان کا استقبال نہایت جوش و امنگ کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اور مان کر چلنا چاہیے کہ ہمیں اس رمضان میں زیادہ سے زیادہ نیکیاں کمانی ہیں۔ کسے معلوم اگلا رمضان دیکھنا ہمیں نصیب ہو کہ نہ ہو۔ نصراللہ نے شکریہ ادا کیا اور جلسہ اختتام کو پہنچا۔
