ریاست میں کورونا وائرس کامقابلہ کرنےکیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کی نمائندہ کمیٹی تشکیل دینے پر زور

اسٹیٹ نیوز
رائچور:۔ سابق رکن اسمبلی رائچورممتاز کانگریسی قائدسید یٰسین نے جاری کردہ ایک صحافتی بیان میں اس بات کا شکر ادا کیا ہے کہ انھوں نے اپنی اسمبلی کی رکنیت کی دوسری معیادکے دورا ن  زبردست جدو جہد کرتے ہوئے رائچور کیلئے500بستروں والےRIMS ہسپتالوں کی منظوری حاصل کی اور عمارتوں و اندرونی ساخت کی چیف منسٹر کرناٹک بی ایس یڈی یورپا  کی پہلی معیاد وزارت کے دوران ہی تعمیر مکمل کرلی۔اور اب ہم نے 259بستر کورونا کے مریضوں کے لئے بھی مختص کردئے ہیں۔اسی طرح اوپیک OPECکی امداد کردہ 350سوپر اسپیشیالٹی ہاسپٹل بھی میری ہی رائچور اسمبلی کی رکنیت کی پہلی معیاد کے دوران ہی حاصل ہوا تھا  اور اب 150بستروں والا سیکنڈ ونگ بھی کرونا کے مریضوں کے علاج کیلئے مختص کردیا گیا ہے۔ مذکورہ بالا دونوں ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کا علاج جاری ہے۔ سید یٰسین نے کہا ہے کہانھوں نے 9مئی کو انھوں نے چیف منسٹر کرناٹک مسٹر بی ایس یڈی یور پا سے رائچور ضلع کی نمائندگی کرتے ہوئے درخواست کی ہے کہ حکومت ایک علیحدہ سب کو آر ڈینیشن کمیٹی تشکیل دے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل کئے جائیں تاکہ وہ اپنے اضلاع و تعلقہ جات کی شکایات اور مسائل اس انسانی صحت کے لئے سارے ملک  اور ریاست کرناٹک کے کے لئے  چیالینج بنی  ہوئی کورونا۔ 19کی دوسری لہر کے دوران پیش کرسکیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اہم ادویات و انجیکشنوں اور ویاکسینوں کی  18سال اور اس سے بڑی عمر کے تمام افراد کے لئے متواتر و موثر انداز میں سپلائی ہو اور اسی طرح ویاکسین کی دوسری ڈوز وینٹی لیٹرس، آکسیجن سیلینڈرس۔، آکسیجن کانسنٹریٹرس، ضروری انجیکشوں،  اینٹی بائیوٹکس اور کرونا کے مریضوں کے موثر علاج  و شفایابی کے لئے دیگر ضروری متبادل ادویات کی بھی بر وقت سپلائی کا لحاظ رکھاجائے ۔سید یٰسین نے کہاہے کہ کورونا وائرس  کی اس متعدہ اور خطرناک وبا کے دوران دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کے مابین ربط و ضبط کے معاملہ میں ایک بڑا خلاپایا جاتا ہے۔ ملک کی اندر دیگر پارٹیوں کے قائدین بھی کرونا مرض سے عوام کو محفوظ رکھنے کے لئے بڑھ چڑھ کر کام کررہے ہیں۔ ان قائیدین کو آکسیجن کی قلت وینٹی لیٹرس کی قلت اور دیگر ادویات و انجیکشنوں کی قلت کا بڑا شدید احساس ہے۔ انقائدین کے مسائل  و مطالبات کی یکسوئی کا بھی بھرپور لحاظ رکھاجاناچاہئے۔